قیامت کا الارم
Urdu book, p. 47
By Maulana Wahiduddin Khan
ڈیزائن سے استدلال (argument from design) کہا جاتا ہے۔ اس طرز استدلال کو منکرینِ خدا نے یہ کہہ کر رد کر دیا کہ یہ کوئی سائنٹفک استدلال نہیں ہے۔ مگر اب جب کہ خود سائنس میں جوہری انشقاق کے بعد یہ مان لیا گیا کہ استنباطی استدلال (inferential argument) بھی علمی اعتبار سے ایک معقول استدلال ہے، تو علمِ الہیات (theology) ایک نئے دور میں داخل ہو گیا، یعنی ایک ایسے دور میں جب کہ الہیاتی استدلال بھی عقلی طور پر اتنا ہی قابلِ قبول ہے، جتنا کہ معروف سائنسی استدلال۔ اخوانِ رسول دورِ آخر میں مہدی، یا مسیح جو کارنامہ انجام دیں گے، وہ کوئی پُراسرار قسم کا شخصی کارنامہ نہیں ہوگا۔ وہ اُسی طرح اسباب وعلل کے تحت پیش آئے گا، جیسا کہ پچھلے پیغمبروں کے زمانے میں پیش آیا۔ مثلاً پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلّمہ طور پر ایک عظیم کارنامہ انجام دیا۔ یہ کارنامہ انجام دینے کے لیے خدا نے آپ کو مضبوط افراد کی ایک ٹیم دی، جس کو اصحابِ رسول کہا جاتا ہے۔ اِسی طرح مہدی، یا مسیح جو کارنامہ انجام دیں گے، اُنھیں بھی خدا کی خصوصی مدد کے ذریعے ایک ٹیم حاصل ہوگی۔ یہی وہ ٹیم ہے جس کو حدیث میں اخوانِ رسول کہا گیا ہے۔ حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وَدِدتُ أنّا قد رأينا إخواننا۔ قالوا: أو لسنا إخوانك يا رسول الله۔ قال: أنتم أصحابي، وإخواننا الذين لم يأتوا بعد (صحیح مسلم، كتاب الطّهارة، باب: استحباب اطالة الغرّة والتّعجيل في الوضوء) یعنی میں چاہتا ہوں کہ ہم اپنے اخوان کو دیکھیں۔ صحابہ نے کہا کہ اے خدا کے رسول، کیا ہم آپ کے اخوان نہیں ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ تم میرے اصحاب ہو۔ ہمارے اخوان وہ ہیں جو ابھی نہیں آئے، وہ آئندہ آئیں گے۔ اصحابِ رسول اور اخوانِ رسول کا معاملہ کوئی پُراسرار معاملہ نہیں۔ اِن دونوں گروہوں کی نوعیت کو قرآن اور حدیث کے مطالعے سے سمجھا جا سکتا ہے۔ اصحابِ رسول کی نوعیت، قرآن کی ایک آیت سے معلوم ہوتی ہے۔ اِس آیت کے الفاظ یہ ہیں: محمد رسول اللہ والذين معه (الفتح: 29)۔ قرآن

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader