Urdu book · قیامت کا الارم

اخوانِ رسول

Urdu book, p. 48

By Maulana Wahiduddin Khan

کی اِس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اصحاب رسول کو جو اعلیٰ ایمانی درجہ ملا، اُس کا راز کیا تھا۔ اِس اعلیٰ ایمانی درجے کے حصول کا راز، قرآن کے الفاظ میں، معیّت رسول تھا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اور معیّت سے فیض یافتہ ہو کر وہ اصحاب رسول اور خیر امت (آل عمران: 110) بنے۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اخوان رسول کا معاملہ بھی قرآن میں مذکور ہے۔ اخوان رسول کا ذکر قرآن کی سورہ نمبر 41 میں بالواسطہ طور پر موجود ہے۔ اِس آیت کا ترجمہ یہ ہے: ”آئندہ ہم اپنی نشانیاں دکھائیں گے، آفاق میں بھی اور نفس میں بھی، یہاں تک کہ اُن پر کامل طور پر یہ ظاہر ہو جائے گا کہ یہ (قرآن) حق ہے‘‘ (حم السجدة: 53)۔ قرآن کی اِس آیت میں یہ پیشین گوئی کی گئی تھی کہ ایک زمانہ آئے گا، جب کہ نیچر میں چھپی ہوئی صداقتِ اسلام کی نشانیاں ظاہر ہوں گی، اور وہ طالبانِ حق کے لیے اعلیٰ معرفت کا ذریعہ بنیں گی۔ واقعات بتاتے ہیں کہ اِس دور سے مراد موجودہ سائنسی دور ہے۔ موجودہ سائنسی دور میں عالم فطرت کے ایسے حقائق انسان کے علم میں آئے ہیں جو بلاشبہ معرفتِ اعلیٰ کا ذریعہ ہیں۔ اِس حقیقت کو سامنے رکھتے ہوئے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اخوان رسول وہ اہلِ ایمان ہیں جو سائنسی دور میں پیدا ہوں گے، اور سائنسی دریافتوں سے ذہنی غذا لے کر اعلیٰ معرفت کا درجہ حاصل کریں گے، نیز یہی وہ لوگ ہوں گے جو مہدی، یا مسیح کا ساتھ دے کر آخری زمانے میں اعلیٰ دعوتی کارنامہ انجام دیں گے۔ اِس معاملے کی ایک مثال سورج گرہن (solar eclipse) اور چاند گرہن (lunar eclipse) کی ہے۔ گرہن کیا ہے۔ گرہن دو سماوی اجرام کے درمیان کسی تیسرے گرہ کے گزرنے سے پیدا ہونے والے اندھیرے کا نام ہے: Eclipse: The obscuring of the reflected light from one celestial body by the passage of another between it. اصحاب رسول کا زمانہ ساتویں صدی عیسوی کے نصف اول کا زمانہ ہے۔ اُس زمانے میں سورج گرہن اور چاند گرہن کے بارے میں عجیب وغریب قسم کی کہانیاں مشہور تھیں۔ یہ معاملہ اُس وقت توہمات (superstitions) کے پردے میں ڈھکا ہوا تھا۔ اصحاب رسول نے توہماتی کہانیوں سے اوپر اٹھ کر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page