اخوانِ رسول
Urdu book, p. 49
By Maulana Wahiduddin Khan
سورج گرہن اور چاند گرہن کے معاملے کو جانا۔ انھوں نے یہ دریافت کیا کہ سورج گرہن اور چاند گرہن، خداوند عالم کی دونشانیاں ہیں۔ وہ خدا کی قدرت کا آسمانی مظاہرہ ہیں۔ اپنے اس ذہن کی بنا پر انھوں نے سورج گرہن اور چاند گرہن کو دیکھ کر خدا کی معرفت حاصل کی، اور نماز کی صورت میں خدا کے آگے جھک کر خدا کی عظمت کا اعتراف کیا۔ موجودہ سائنسی دور میں دوربین مشاہدہ کے ذریعے شمسی نظام (solar system) کے بارے میں نئی معلومات حاصل ہوئی ہیں۔ یہ معلومات بلاشبہہ ازدیادِ ایمان اور اضافۂ معرفت کا ذریعہ ہیں۔ ان نئی معلومات کی روشنی میں جب آج کا ایک مومن، سورج گرہن اور چاند گرہن کے ظاہر کو دیکھتا ہے، تو اُس کو اُس اعلیٰ معرفت کا تجربہ ہوتا ہے جو دل کو ہلا دے، اور جس کو سوچ کر بدن کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں۔ جدید معلومات کے مطابق، زمین اور سورج اور چاند، تین بالکل مختلف سائز کے متحرک اِجرام ہیں، مگر وسیع خلا میں ان اِجرام کو ایک نا قابلِ قیاس حساب کے ذریعے ایک سیدھ میں لایا جاتا ہے۔ اِسی کے نتیجے میں، انسانی مشاہدہ کی نسبت سے، سورج گرہن یا چاند گرہن واقع ہوتا ہے: Eclipse is a result of unimaginably well-calculated positioning of three different moving bodies in the vast space. مسیح کی آمدِ ثانی کا مسئلہ اس بحث سے تعلق رکھنے والا ایک مسئلہ وہ ہے جس کو مسیح کی آمدِ ثانی کا مسئلہ کہا جاتا ہے۔ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ حضرت مسیح آسمان میں زندہ ہیں اور آخری زمانے میں وہ جسمانی طور پر آسمان سے اتر کر زمین پر آئیں گے اور دجّال کو قتل کریں گے۔ یہ تصور اگرچہ لوگوں میں کافی پھیلا ہوا ہے، مگر وہ اپنی موجودہ صورت میں نہ قرآن سے ثابت ہوتا ہے، اور نہ احادیث سے۔ حدیث کی مختلف کتابوں میں تقریباً دو درج معتبر روایتیں ہیں جن میں مسیح کی آمد کا ذکر ہے۔ لیکن قابلِ غور بات یہ ہے کہ اُن میں سے کسی بھی روایت میں یہ الفاظ موجود نہیں کہ مسیح جسمانی طور پر آسمان سے اتر کر زمین پر آئیں گے۔ آسمان سے اترنے کا نظریہ روایتوں میں مکمل طور پر غیر موجود ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader