Urdu book · قیامت کا الارم

قیامت کا الارم

Urdu book, p. 50

By Maulana Wahiduddin Khan

اِس سلسلے میں جو بات ہے، وہ صرف یہ ہے کہ روایتوں میں نزول اور بعث کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ مگر صرف اِس لفظ سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ حضرت مسیح آسمان سے اُتر کر نیچے زمین پر آئیں گے۔ عربی زبان میں نزول کا لفظ سادہ طور پر آنے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے، نہ کہ آسمان سے اترنے کے معنی میں۔ اِسی اعتبار سے مہمان کو نزِیل کہا جاتا ہے، یعنی آنے والا۔ اِسی طرح بعث کے لفظ میں بھی آسمان سے اترنے کا مفہوم شامل نہیں ہے۔ بعث کا مطلب اُٹھنا، یا ظاہر ہونا ہے، نہ کہ آسمان سے اترنا۔ مسیحی رول کی آمد حقیقت یہ ہے کہ مسیح کی آمد سے مراد مسیح کے رول کی آمد ہے، یعنی دورِ آخر میں جب کہ دجال ظاہر ہوگا، اُس وقت امتِ محمدی کا کوئی شخص اٹھے گا اور مسیح جیسا رول ادا کرتے ہوئے دجال کے فتنوں کا مقابلہ کرے گا اوراُس کو شکست دے گا۔ حدیث میں قتل دجال کا ذکر ہے۔ اِس سے مراد دجال کا جسمانی قتل نہیں ہے، بلکہ دجال کے فتنے کو بذریعہ دلائل قتل کرنا ہے۔ یہ کوئی انوکھی بات نہیں۔ علماءِ اسلام کی قابلِ لحاظ تعداد اِس نقطہ نظر کو ہمیشہ سے مانتی رہی ہے کہ مسیح جسمانی طور پر آسمان سے نازل نہیں ہوں گے۔ اِس نقطہ نظر کی تائید میں مستقل کتابیں بھی لکھی گئی ہیں۔ جو علماء اسلام اِس نقطہ نظر کے حامی ہیں، اُن میں سے بعض کے نام یہ ہیں ـــــ سید جمال الدین افغانی (وفات: 1897)، مفتی محمد عبدہ (وفات: 1905)، سید رشید رضا مصری (وفات: 1935)، شیخ محمود شلتوت (وفات: 1963)، ڈاکٹر محمد اقبال (وفات: 8 3 9 1)، مولا نا عبید اللہ سندھی (وفات: 1944)، مولا نا ابو الکلام آزاد (وفات: 1958)، شیخ محمد بن احمد ابو زہرہ (وفات: 1974)، وغیرہ۔ (مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: ماہ نامہ الرسالہ، جولائی 2008، مضمون ’’قربِ قیامت کا مسئلہ‘‘) علماءِ متقدمین میں علی بن احمد بن حزم الاندلسی (وفات: 1063 ء) اور شیخ تقی الدین احمد ابن تیمیہ (وفات: 1328ء) نے نزول مسیح کے مسئلے کو اختلافی مسئلہ قرار دیا ہے (مراتب الإجماع، لابن حزم، نقد مراتب الإجماع، لابن تیميه)۔ اِس طرح یہ ظاہر ہے کہ روایات سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ مسیح کوئی ایسی شخصیت ہیں جو آسمان سے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page