Urdu book · قیامت کا الارم

قیامت کا الارم

Urdu book, p. 56

By Maulana Wahiduddin Khan

شامل ہیں جو ایک کامیاب زبان کا ضروری حصہ سمجھے جاتے ہیں۔ مثلاً وضوح (clarity)، مؤثر اسلوب۔ ایسا طرزِ استدلال جو مخاطب کو بے دلیل کردے، وہ دلیل کے اعتبار سے اپنے آپ کو بے بس محسوس کرنے لگے اور اپنے دفاع کے لیے اس کے پاس تشدد اور عیب زنی کے سوا کچھ اور چیز باقی نہ رہے (خم السجدة: 26)، جس کے مقابلے میں مخاطب کی ہر بات بے وزن دکھائی دینے لگے۔ اس کا کلام ایسا کلام ہو جو معاصر ذہن کو پوری طرح ایڈریس کرنے والا ہو۔ اس قسم کا طاقت ور اسلوب کبھی اکتسابی نہیں ہوتا۔ وہ ہمیشہ وہی طور پر کسی ایسے شخص کو عطا ہوتا ہے جس سے خدا اپنے دین کی تبیین کا کام لینا چاہے۔ جس شخص کے اندر اس قسم کا استثنائی اسلوب پایا جائے، وہ اپنے آپ میں اس بات کی ایک یقینی علامت ہے کہ اس کو خدا نے اپنے کارِ دعوت کے لیے منتخب کیا ہے۔ اس استثنائی صفت کے باوجود جو لوگ اس کو نہ پہچانیں، وہ اُسی قسم کے اندھے پن میں مبتلا ہیں، جس اندھے پن کی بنا پر لوگوں نے پچھلے پیغمبروں کو نہیں پہچانا اور وہ ان کے منکر بنے رہے۔ معرفت، نہ کہ نزول ایک روایت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت مسیح کے ظہور کے متعلق فرمایا: وإنّه نازل، فإذا رأيتموه فاعرفوه (سنن أبي داؤد، كتاب الملاحم، باب ذكر الدّجال) یعنی وہ آئیں گے۔ پس جب تم ان کو دیکھو تو تم اُن کو پہچان لینا۔ اس حدیثِ رسول سے معلوم ہوتا ہے کہ پہچاننا’’نزول‘‘ کی بنیاد پر نہ ہوگا، بلکہ خود ان کی شخصیت کو دیکھ کر ہوگا۔ اگر پہچان کا تعلق نزول سے ہو، تو آسمان سے اُن کا جسمانی طور پر دو فرشتوں کے ساتھ اترنا اتنا زیادہ عجیب واقعہ ہوگا کہ ہر آدمی بلا اعلان ہی ان کو اپنے آپ پہچان لے۔ گویا کہ اس معاملے میں، حدیث کے مطابق، اصل معاملہ سادہ طور پر معرفتِ مسیح کا ہے، نہ کہ معجزاتی طور پر اُن کے آسمانی نزول کا۔ روایت کے مطابق، مسیح کی ایک پہچان یہ ہوگی کہ اُن کے زمانے میں خدا اسلام کے سوا تمام ملتوں کو ہلاک کردے گا (يُهلك الله في زمانه الملل كلها إلا الإسلام سنن أبى داؤد، کتاب الملاحم، باب: خروج الدّجال) اس سے مراد بقیہ ملتوں کی جسمانی ہلاکت نہیں ہے، بلکہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page