Urdu book · قیامت کا الارم

قیامت کا الارم

Urdu book, p. 57

By Maulana Wahiduddin Khan

ان کی استدلالی ہلاکت ہے۔ ظہور مسیح کے زمانے میں فطرت کے جو موافق دلائل، سائنسی تحقیق کے نتیجے میں سامنے آئیں گے، اور مذاہب کے تقابلی مطالعے کے نتیجے میں جو حقیقتیں سامنے آئیں گی، وہ دوسری ملتوں (مذاہب) کی استدلالی بنیاد کو ڈھادینے کے ہم معنی ہوں گی۔ یہ معاملہ ابتداء بالقوہ (potentially) پیش آئے گا، یعنی نئے دریافت شدہ حقائق، دوسری ملتوں، یا دوسرے مذاہب کو اپنے آپ ہلاک نہیں کر دیں گے، بلکہ اُس وقت ایک شخص درکار ہوگا جو ان دریافت شدہ حقائق کی وضاحت کر کے اس امکان کو واقعہ (actual) بنائے گا۔ حدیث کے مطابق، استثنائی طور پر یہ کام مسیح انجام دیں گے، جب کہ دوسرے لوگ ایسا کرنے میں اپنے آپ کو پوری طرح عاجز پا رہے ہوں گے۔ یہ واقعہ مسیح کی شخصیت کی ایک پہچان ہوگا۔ اِسی طرح حدیث میں آیا ہے کہ حضرت مسیح جب آئیں گے، تو وہ ایک سفید مینار (المنارة البيضاء) کے پاس اتریں گے (صحیح مسلم، کتاب الفتن)۔ اِس حدیثِ رسول میں تمثیل کی زبان میں غالباً اِس دور کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جس کو عہد پرواز (age of aviation) کہا جاتا ہے۔ ہوائی جہاز جب کسی ائر پورٹ پر اترتا ہے تو وہاں پہلا نمایاں نشان اس کا کنٹرول ٹاور ہوتا ہے، جس کو ائر پورٹ کا مینار کہہ سکتے ہیں۔ اس مینار کے پاس اتر کر آدمی شہر کے اندر داخل ہوتا ہے۔ مذکورہ حدیث میں غالباً تمثیل کی زبان میں اِسی ظاہر کے کو بتایا گیا ہے۔ اس اعتبار سے حدیث کا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ حضرت مسیح عہدِ پرواز (age of aviation) میں لوگوں کے درمیان ظاہر ہوں گے۔ کامل تواضع اِسی طرح حدیث میں آیا ہے کہ حضرت مسیح فجر کی نماز کے وقت ظاہر ہوں گے۔ مسلمانوں کا امیر اُن سے کہے گا کہ آپ نماز پڑھائیے۔ حضرت مسیح جواب دیں گے کہ اس امت کے لوگ خود ہی ایک دوسرے پر امیر ہیں۔ پھر مسلمانوں کا امیر آگے بڑھ کر نماز پڑھائے گا (هذه الأمة بعضهم أمراء بعض - فيتقدم أميرهم فيصلى) مسند احمد، جلد 4 ، صفحه 218۔ اس حدیث میں امامت کا لفظ ہے، لیکن اس سے مراد محدود طور پر صرف نماز کی امامت نہیں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page