قیامت کا الارم
Urdu book, p. 58
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے، بلکہ اس سے مراد وہی چیز ہے جس کو وسیع تر معنوں میں قیادت یا لیڈر شپ (leadership) کہا جاتا ہے۔ مسیح کے ظہور کا زمانہ وہ زمانہ ہوگا، جب کہ میڈیا یا اسٹیج اور مناصب قیادت اپنی آخری صورت میں وجود میں آچکے ہوں گے۔ ہر آدمی ان چیزوں کی طرف دوڑے گا۔ لیکن خدا ایسے شخص کو مسیحی کردار ادا کرنے کے لیے چنے گا جو آخری حد تک امامت اور قیادت کی نفسیات سے پاک ہوگا۔ اس کی شخصیت میں کامل طور پر تواضع (modesty) پائی جائے گی۔ مزید یہ کہ یہ صفات اس کے اندر حقیقی طور پر ہوں گی، نہ کہ صرف ظاہری طور پر۔ حقیقی تواضع (modesty) کوئی سادہ چیز نہیں۔ یہ کسی انسان کے عارف باللہ ہونے کی آخری پہچان ہے۔ یہ صفت کامل معنوں میں صرف پیغمبروں کے اندر ہوتی ہے۔ مسیح کے اندر بھی یہ صفت اپنے کامل معنی میں پائی جائے گی۔ اور یہی صفت اس بات کی قطعی پہچان ہوگی کہ وہ وہی مطلوب انسان ہے جس کو انسانی تاریخ کے آخری دور میں مسیحی رول ادا کرنے کے لیے خدا نے خصوصی طور پر منتخب کیا ہے۔ قتلِ دجال قتلِ دجال کے بارے میں ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ ابن ماجہ کے الفاظ یہ ہیں : فاذا نظر اليه الدجال ذاب كما يذوب الملح في الماء، وينطلق هارباً، ويقول عيسى ان لى فيك ضربة لن تسبقني بها (كتاب الفتن، باب: ذكر الدجال) یعنی دجال جب مسیح کو دیکھے گا، تو وہ اس طرح گھلنے لگے گا جیسے کہ نمک پانی میں گھلتا ہے، اور وہ وہاں سے بھاگنا شروع کردے گا۔ مسیح کہیں گے کہ میرے پاس تیرے لیے ایک ایسی ضرب ہے جس سے بچنا ہرگز تیرے لیے ممکن نہیں۔ اس روایت میں جو بات کہی گئی ہے، وہ تمثیل کی زبان میں ہے۔ اس پر غور کرنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ دجال کے مقابلے میں جو واقعہ پیش آئے گا، وہ یہ ہے کہ مسیح اُس کے دجل کا علمی تجزیہ کرکے اُس کو ایکسپوز (expose) کر دیں گے۔ اس طرح وہ دلائل کے ذریعے دجال کو بے نقاب کردیں گے، یہاں تک کہ جو لوگ دجال کی پرفریب باتوں سے متاثر ہورہے تھے، وہ جان لیں گے کہ دجال کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader