قیامت کا الارم
Urdu book, p. 59
By Maulana Wahiduddin Khan
باتیں خوش نما الفاظ کے جھوٹے فریب کے سوا اور کچھ نہیں۔ گلوبل وارمنگ، یا موسمیاتی تبدیلی بطور آغازِ قیامت عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ اسلام اور سائنس دونوں ایک دوسرے سے الگ ہیں۔ اسلام کا موضوع الگ ہے اور سائنس کا موضوع الگ۔ یہ بات کسی حد تک درست ہوسکتی ہے، لیکن ایک شعبہ ایسا ہے جہاں اسلام اور سائنس دونوں ایک دوسرے سے بالکل ہم آہنگ ہوجاتے ہیں، یعنی جو بات سائنس اپنی تحقیق کے ذریعے بتا رہی ہے، وہی بات اسلام میں وحی کے ذریعے بتائی گئی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ اسلام میں یہ بات ہزار سال سے بھی زیادہ پہلے ساتویں صدی عیسوی میں بتا دی گئی تھی، جب کہ سائنس نے اس بات کو ابھی حال کے برسوں میں دریافت کیا ہے، خاص طور پر اکیسویں صدی عیسوی کے آغاز کے بعد۔ یہ شعبہ، قیامت یا تاریخ انسانی کے خاتمہ (end of history) کے بارے میں ہے۔ عجیب بات ہے کہ اس سلسلے میں جو باتیں قرآن اور حدیث میں بطور پیشگی خبر کے طور پر بتائی گئی تھیں، وہ اب سائنسی مشاہدات کے ذریعے بطور واقع انسان کے علم میں آ رہی ہیں۔ یہاں اس سلسلے میں چند مثالیں درج کی جاتی ہیں: کرۂ ارض میں تبدیلی قرآن اور حدیث میں کثرت سے بتایا گیا ہے کہ قیامت سے پہلے کچھ علامتی واقعات ظاہر ہوں گے، جو یہ بتائیں گے کہ قیامت اب قریب آ گئی ہے۔ مثال کے طور پر اس سلسلے میں قرآن کی ایک آیت یہ ہے: يوم تبدل الأرض غير الأرض والسّموات، وبرزوا لله الواحد القهار (ابراهيم: 48) یعنی جس دن یہ زمین دوسری زمین سے بدل دی جائے گی اور آسمان بھی۔ اور سب الله، واحد و قہار کے سامنے پیش ہوں گے: On the day when the earth shall be changed into a different earth, and the heavens as well, and people shall come forth before God, the One, the Supreme (14:48). اس آیت میں جس تبدیلی کا ذکر ہے، وہ غالباً اچانک تبدیلی نہیں ہے، بلکہ وہ بتدریج ہونے والی تبدیلی ہے۔ موجودہ زمانے میں یہ واقعہ عملاً پیش آرہا ہے۔ یہ عجیب بات ہے کہ موجودہ زمانے میں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader