Urdu book · قیامت کا الارم

قیامت کا الارم

Urdu book, p. 60

By Maulana Wahiduddin Khan

سائنس کی مختلف شاخوں میں غیر معمولی ترقی ہوئی ہے۔ اس کی وجہ سے یہ ممکن ہو گیا ہے کہ انسان ان ہونے والی تبدیلیوں کو بروقت جان سکے، جب کہ سائنسی ترقی سے پہلے انسان کے لیے ان تبدیلیوں کو جاننا ممکن نہ تھا۔ یعنی خدا نے ایک طرف قیامت کی پیشگی خبر کے طور پر زمین میں چشم کشا تبدیلیاں پیدا کیں، اور عین اُسی وقت خدا نے انسان کو وہ جدید سائنسی طریقے عطا کر دیے جن کے ذریعہ وہ ان تبدیلیوں کو براہِ راست طور پر جان سکے۔ اکیسویں صدی کے آتے ہی دنیا بھر کے سائنس دانوں نے اپنے مطالعے کے مطابق، متفقہ طور پر یہ اعلان کرنا شروع کیا کہ زمین میں گلوبل وارمنگ اور موسمیاتی تبدیلی (climatic change) کے نتیجے میں نہایت تیزی سے تبدیلیاں ہورہی ہیں۔ جدید سائنسی مشاہدات کے مطابق، ان تبدیلیوں کے نتیجے میں یہ ہونے والا ہے کہ تقریباً 2050 سے پہلے ہی ہماری زمین نا قابلِ رہائش (inhabitable) ہو جائے۔ پچھلے دس برسوں کے اندر اس سلسلے میں سائنس دانوں کی طرف سے بہت سی رپورٹس شائع ہو چکی ہیں۔ حال میں امریکا کے سائنس میگزین میں اس سلسلے میں ایک رپورٹ چھپی ہے۔ یہ ناسا (NASA) کے ایک ٹاپ سائنٹسٹ (James Hansen) کی طرف سے ہے۔ اس رپورٹ کا خلاصہ نئی دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمز آف انڈیا (9 اپریل 2008) میں اس عنوان کے تحت چھپا ہے— زمین خطرے میں: Earth in Crisis اس رپورٹ کے مطابق، زمین پر بحران کی حالت اتنی زیادہ بڑھ گئی ہے کہ بروقت ہی وہ خطرے کی سطح تک پہنچ چکی ہے : “We have already reached dangerous level of carbon dioxide in the atmosphere,” James Hansen, 67, director of Nasa’s Goddard Institute for Space Studies in New York, said. (p. 35) زمین پر لائف سپورٹ سسٹم کے بگڑنے کے معاملے میں سائنس داں جو خبریں دے رہے ہیں، وہ نظریاتی تخمینہ پر مبنی نہیں ہیں، بلکہ وہ خالص مشاہدات کے ذریعے حاصل کی ہوئی معلومات ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page