Urdu book · قیامت کا الارم

Earth in Crisis

Urdu book, p. 61

By Maulana Wahiduddin Khan

موجودہ زمانے میں جو جدید ترین سائنسی طریقے دریافت ہوئے ہیں، اُن کے ذریعے مسلسل مشاہداتی مطالعہ کیا گیا ہے اور پھر یہ رپورٹیں میڈیا میں بھیجی گئیں۔ یہ معلومات تمام کی تمام ایسی ہیں جن کو کوئی بھی شخص سائنسی ذرائع کو استعمال کر کے جان سکتا ہے۔ دابۃ کا ظہور اسی طرح قرآن کی سورہ نمبر 27 میں بتایا گیا ہے کہ قیامت سے پہلے خدا کے حکم سے ایک دابۃ نکلے گا۔ اس آیت کا ترجمہ یہ ہے: ” اور جب اُن پر بات پوری ہو جائے گی، تو ہم اُن کے لیے زمین سے ایک دابۃ نکالیں گے، جو اُن کو بتائے گا کہ لوگ ہماری نشانیوں پر یقین نہیں رکھتے تھے‘‘ (النمل : 82)۔ قرآن کی اس آیت میں دابۃ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ دابۃ کے لفظی معنی ہیں — رینگنے والا (creeper)۔ اس آیت کے سیاق میں دابۃ کا مطلب یہ ہوگا کہ کسی کلام کو رینگ کر ایک مقام سے دوسرے مقام تک پہنچانے والا۔ اس قسم کی پیغام رسانی، یعنی رینگ کر پیغام پہنچانا (communicating a message through creeping) تاریخ کا ایک نیا ظاہر ہ ہوگا، جو قرب قیامت کی ایک نشانی کے طور پر سامنے آئے گا۔ قبل سائنس دور (pre-scientific age) میں انسان کو پیغام رسانی کا صرف ایک ہی ذریعہ معلوم تھا، یعنی ایک انسان کا اپنی زبان سے بولنا، اور دوسرے قریبی انسان کا کسی واسطے کے بغیر اُس کو براہِ راست طور پر سننا۔ ہزاروں برس سے یہی فطری طریقہ لوگوں کے درمیان چلا آ رہا تھا۔ لوگوں کو یہ معلوم نہ تھا کہ براہِ راست کلام کے سوا بھی کوئی طریقہ اُن کے لیے ممکن ہے۔ قرآن کے مطابق ، دورِ آخر میں (سائنس اور ٹکنالوجی کے دور میں) پیغام رسانی کا ایک نیا طریقہ ظاہر ہوگا، یعنی ایک رینگنے والے دابۃ کے ذریعے کسی پیغام کا بہ سرعت ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچنا۔ پیغام رسانی کا یہی بالواسطہ طریقہ موجودہ زمانے میں بطور واقعہ وجود میں آ چکا ہے۔ اس طریقے کو فاصلاقی پیغام رسانی (telecommunication) کہا جاتا ہے۔ موجودہ زمانے میں یہ ممکن ہو گیا ہے کہ ایک آدمی زمین کے کسی مقام پر بولے، اور اس کی آواز میکنکل لہروں میں تبدیل ہو کر عین

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page