Urdu book · قیامت کا الارم

قیامت کا الارم

Urdu book, p. 62

By Maulana Wahiduddin Khan

اسی وقت زمین کے ہر حصے میں پہنچ جائے۔ اس بالواسطہ پیغام رسانی کے مختلف طریقے موجودہ زمانے میں وجود میں آچکے ہیں۔ اُن کو مشترک طور پر ملٹی میڈیا (multi media) کہا جاتا ہے۔ فضلاتی پیغام رسانی کے اس طریقے کے وجود میں آنے کے بعد پہلی بار یہ ممکن ہوا ہے کہ ’’الناس‘‘، یعنی عمومی طور پر تمام باشندگانِ ارض کو دعوت الی اللہ کا مخاطب بنایا جا سکے، حتیٰ کہ زمین پر بسنے والے کسی عورت یا مرد کے لیے یہ کہنے کا موقع نہ رہے کہ وہ حق کے پیغام سے بے خبر تھے۔ لوگوں کی عمومی بے خبری کو توڑنے والا یہ ذریعہ جب ظاہر ہوگا، تو وہ اس بات کی علامت ہوگا کہ اب قیامت کا وقت قریب آگیا۔ موجودہ زمانے میں قرآن کی یہ پیشین گوئی پوری طرح واقعہ بن چکی ہے۔ اس طرح اب آخری طور پر یہ بات ظاہر ہو چکی ہے کہ قیامت کا دن اب زیادہ دورنہیں۔ حدیث میں آئی ہوئی پیشین گوئیاں 1- حدیث میں بتایا گیا ہے کہ آخری زمانے میں ایک سنگین فتنہ ظاہر ہوگا، یعنی فتنۂ دہیماء (سنن أبی داؤد، كتاب الملاحم)۔ اس سے مراد غالباً ذہنی کہر (intellectual fog) جیسی صورتِ حال ہے۔ یہ صورتِ حال پرنٹنگ پریس کی ایجاد کے بعد شروع ہوئی، اور انٹرنیٹ کے دور میں آکر وہ اپنی آخری حد تک پہنچ گئی۔ اس زمانے میں پرنٹنگ میٹریل اور الیکٹرانک میٹریل کے ذریعے اتنی زیادہ باتیں لوگوں کے درمیان پھیلائی گئی ہیں کہ اب ہر انسان معلومات کے جنگل میں جی رہا ہے۔ اس صورتِ حال نے ایک ذہنی کہر کی حالت پیدا کردی ہے۔ ہر آدمی کا دماغ معلومات کا جنگل بنا ہوا ہے۔ ایسی حالت میں حق اور باطل کے درمیان فرق کرنا اور غلط کو الگ کرکے صحیح کو دیکھنا، اتنا زیادہ مشکل ہو چکا ہے کہ وہ خدا کی خصوصی مدد کے بغیر ممکن ہی نہیں۔ 2- ایک روایت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت اُس وقت تک قائم نہیں ہوگی، یہاں تک کہ ہرج بہت زیادہ نہ بڑھ جائے (لا تقوم الساعة حتّی يكثر الهرج)۔ لوگوں نے کہا کہ ہرج کیا ہے، اے خدا کے رسول۔ آپ نے فرمایا: القتل، القتل (صحيح مسلم، كتاب الفتن وأشراط الساعة)۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page