Urdu book · قیامت کا الارم

حدیث میں آئی ہوئی پیشین گوئیاں

Urdu book, p. 63

By Maulana Wahiduddin Khan

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ ساتویں صدی عیسوی کے رُبع اوّل کا زمانہ ہے۔ اُس زمانے میں جدید ہتھیار نہیں بنے تھے ۔ اُس وقت یہ ناقابلِ تصور تھا کہ قتل اور خوں ریزی ہر طرف عام ہو جائے۔ یہ صرف موجودہ زمانے میں ممکن ہوا ہے ، جب کہ عمومی تباہی کے ہتھیار (weapons of mass destruction) بنائے گئے اور وسیع پیمانے کا قتل وخون ممکن ہوگیا۔ چناں چہ ہم دیکھتے ہیں کہ موجودہ زمانے میں ہر طرف اور ہر روز کثرت سے قتل اور خوں ریزی کے واقعات ہو رہے ہیں۔ یہ صورتِ حال اس بات کی علامت ہے کہ اب قیامت بہت قریب آچکی ہے۔ اس پیشین گوئی کی صداقت کے لیے یہ ثبوت کافی ہے کہ یہ پیشین گوئی بہت پہلے اُس وقت کی گئی، جب کہ موجودہ قسم کا قتل اور تشدد بالکل ناقابلِ قیاس تھا۔ 3- ایک روایت کے مطابق، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یوشک الفرات أن يحسر عن كنز من ذهب (صحیح مسلم، کتاب الفتن) یعنی وہ زمانہ آنے والا ہے، جب کہ دریائے فرات میں سونے کا ایک خزانہ نکلے۔ اس حدیث میں جو پیشین گوئی کی گئی ہے، اُس سے مراد واضح طور پر پٹرول ہے، جس کو موجودہ زمانے میں سیال سونا (liquid gold) کہا جاتا ہے اور جو بہت بڑی مقدار میں مشرقِ اوسط (Middle East) کے عرب علاقے میں ظاہر ہوا ہے۔ یہ واقعہ بھی پیغمبر اسلام کے زمانے میں ناقابلِ تصور تھا۔ موجودہ زمانے میں بلاشبہ آپ کی یہ پیشین گوئی پوری ہوچکی ہے۔ یہ واقعہ اس بات کی ایک علامت ہے کہ قیامت اب زیادہ دور نہیں۔ 4- ایک روایت کے مطابق، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے قرب قیامت کی دس نشانیوں کا ذکر فرمایا۔ اُن میں سے ایک نشانی دُخان کا ظاہر ہونا ہے۔ دُخان کے لفظی معنی دھواں (smoke) کے ہیں۔ اس روایت میں یہ پیشین گوئی کی گئی تھی کہ ایک وقت ایسا آئے گا، جب کہ زمین کی پوری فضا دھوئیں سے بھر جائے گی۔ موجودہ زمانے میں یہ پیشین گوئی واقعہ بن چکی ہے۔ اس سے مراد واضح طور پر وہی چیز ہے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page