Urdu book · قیامت کا الارم

حدیث میں آئی ہوئی پیشین گوئیاں

Urdu book, p. 64

By Maulana Wahiduddin Khan

جس کو موجودہ زمانے میں فضائی کثافت (air pollution) کہا جاتا ہے۔ یہ کثافت، جدید صنعتی دور کا ایک ظاہر ہ ہے۔ جدید صنعتی دور نے تاریخ میں پہلی بار وہ چیز پیدا کی ہے جس کو کاربن ایمیشن (carbon emission) کہا جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں پوری فضا کاربن ڈائی آکسائڈ سے بھر گئی ہے، جو انسان جیسی مخلوق کے لیے انتہائی مہلک ہے۔ فضائی کثافت کا یہ معاملہ پیغمبر اسلام کے زمانے میں ناقابل تصور تھا۔ ایسی حالت میں چودہ سو سال بعد اس پیشین گوئی کا واقعہ بننا، قرب قیامت کی ایک واضح نشانی کی حیثیت رکھتا ہے۔ 5- ایک روایت کے مطابق، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «إنكم سترون بعد قليل أمراً عظيماً، يُحْرَق البيت، ويكون ويكون (صحیح مسلم، كتاب الفتن)۔ یعنی آئندہ تم ایک امرِ عظیم دیکھو گے، وہ یہ کہ ایک گھر جلا دیا جائے گا۔ اور ایسا ہوگا اور ضرور ہوگا۔ حدیث کے الفاظ پر غور کیجیے تو یہ کسی عام گھر کو جلانے کی بات نہیں ہے، بلکہ وہ ایک بہت بڑے گھر کو جلانے کی بات ہے، جیسا’گھر‘ قدیم زمانے میں موجود نہ تھا۔ اس پیشین گوئی سے غالبا وہ واقعہ مراد ہے جو 11 ستمبر 2001 کو نیو یارک (امریکا) میں پیش آیا۔ یہاں مشہور ورلڈ ٹریڈ سنٹر (World Trade Centre) واقع تھا۔ سینٹر 72-1970 میں تعمیر کیا گیا تھا۔ اس کی ایک سوس منزلیں تھیں۔ یہ گویا کہ ایک عمارتیں پہاڑ تھا۔ روایتی طریقوں سے اس کو توڑنا، یا جلانا ناممکن تھا۔ مذکورہ تاریخ کو کچھ لوگوں نے دو ہوائی جہازوں کو ہائی جیک کیا اور اس کو فضا میں تیز اڑاتے ہوئے لے جا کر ورلڈ ٹریڈ سنٹر سے ٹکرا دیا۔ اس کے بعد ایک عظیم دھماکہ کے ساتھ پوری بلڈنگ جل کر کھنڈر ہوگئی۔ ایسے کسی واقعے کے ظہور میں آنے کے لیے بہت سے اسباب درکار تھے۔ یہ اسباب تاریخ میں پہلی بار بیسویں صدی عیسوی میں انسان کو حاصل ہوئے۔ ایسی حالت میں اس انوکھی پیشین گوئی کا حرف بہ حرف پورا ہونا، اس بات کی یقینی علامت ہے کہ اب قیامت کا وقت قریب آچکا ہے، اس کے آنے میں اب زیادہ دیر نہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page