حدیث میں آئی ہوئی پیشین گوئیاں
Urdu book, p. 65
By Maulana Wahiduddin Khan
6-ایک روایت کے مطابق، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لا تقوم الساعة حتی لا يقال في الأرض : الله، الله (صحیح مسلم، کتاب الإيمان، الترمذی، کتاب الفتن) یعنی قیامت صرف اُس وقت قائم ہوگی جب کہ زمین پر کوئی اللہ، اللہ کہنے والا باقی نہ رہے۔ اِس حدیث میں قول سے مراد قولِ لسان نہیں ہے، بلکہ قولِ معرفت ہے، جیسا کہ قرآن (المائدۃ: 83) سے ثابت ہوتا ہے۔ قولِ معرفت کا معیار قرآن میں بتا دیا گیا ہے۔ وہ معیار یہ ہے کہ قولِ معرفت ایک ایسے انسان کی زبان سے نکلتا ہے، جو اللہ کے ساتھ حُبّ شدید (البقرہ: 165) اور خوفِ شدید (التوبۃ: 18) کا تعلق رکھتا ہو۔ جس کا حال یہ ہو کہ جب اس کے سامنے خدا کا ذکر کیا جائے، تو اس کا سینہ خدا کی عظمت کے احساس سے دہل اٹھے (الأنفال: 2)۔ جب زمین پر اِس معنی میں خدا کی عظمت کا اعتراف کرنے والے لوگ باقی نہ رہیں، تو سمجھ لینا چاہیے کہ قیامت کا وقت قریب آگیا ہے۔ انسان کا وجود اور یہاں کی ہر چیز جو انسان کو ملی ہوئی ہے، وہ سب خدا کا انعام ہے۔ اللہ کا چرچا کرنے والوں کا زمین پر نہ ہونا کوئی سادہ بات نہیں۔ ایسی صورتِ حال کا مطلب یہ ہے کہ لوگ خدا کے انعام کو تو خوب خوب لے رہے ہیں، لیکن وہ مُنْعِم کا اعتراف نہیں کرتے۔ جب زمین پر ایسی صورتِ حال پیدا ہو جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ انسان نے آخری طور پر اس بات کا جواز کھو دیا ہے کہ اُس کو خدا کی زمین پر مزید آباد رہنے کا موقع دیا جائے۔ موجودہ زمانے میں یہ پیشین گوئی واقعہ بن چکی ہے۔ موجودہ زمانے میں ایسے لوگ تو کثرت سے ملیں گے جو تکرارِ لسان کے طور پر اللہ کا نام لیں، مگر اللہ کے نزدیک ایسے لوگوں کی کوئی قیمت نہیں، اور جہاں تک حقیقی معنوں میں اللہ کو یاد کرنے کا سوال ہے، ساری زمین پر بہت کم ایسے لوگ ہوں گے جو اِس معاملے میں مطلوب معیار پر پورے اتریں۔ اِس کا ایک واضح ثبوت یہ ہے کہ پرنٹنگ پریس اور اسٹیچ کے دور کے آنے کے بعد مسلمان بڑی بڑی سرگرمیاں کر رہے ہیں، مگر حقیقی معنوں میں خدا کا چرچا کرنے والے لوگ کہیں نظر نہیں آتے۔ لوگ اپنے قومی فخر میں جی رہے ہیں، نہ کہ خدا کی عظمت میں۔ خدا کی حقیقی عظمت کا ذکر ان کی تقریروں اور

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader