حدیث میں آئی ہوئی پیشین گوئیاں
Urdu book, p. 66
By Maulana Wahiduddin Khan
تحریروں اور ان کے اداروں میں کہیں نظر نہیں آتا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ لوگوں نے اپنی قومی عظمت کو تو ضرور دریافت کیا، لیکن وہ خدا کی عظمت کو دریافت نہ کر سکے۔ ایسی حالت میں یہ ایک فطری بات ہے کہ ان کی زندگیاں خدا کی حقیقی عظمت کے چرچے سے خالی نظر آئیں۔ 7 - قرب قیامت کی علامتوں میں سے ایک علامتِ حدیث میں یہ بتائی گئی ہے کہ اُس زمانے میں اسلام کا کلمہ دنیا کے ہر چھوٹے اور بڑے گھر میں داخل ہو جائے گا (لا يبقى على ظهر الأرض بيت مدر، ولا وبر إلا أدخله الله كلمة الإسلام)۔ اس سلسلے میں مزید یہ الفاظ آئے ہیں: بعزّ عزیز، وذلّ ذلیل (مسند احمد، جلد 6، صفحہ (4) یعنی عزت والے کو عزت کے ساتھ اور ذلت والے کو ذلت کے ساتھ۔ اس سے مراد کسی قسم کی سیاسی طاقت نہیں ہے۔ یہ ایک اسلوب کلام ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ— خواہی نہ خواہی (willingly or unwillingly) یعنی کوئی شخص چاہے یا نہ چاہے، اسلام کا کلمہ بہر حال اس کے گھر میں داخل ہو جائے گا۔ یہ واقعہ کس طرح ہوگا۔ کمپیوٹر آج (computer age) سے پہلے یہ بات بظاہر نا قابل فہم معلوم ہوتی تھی، مگر اب کمپیوٹر آج نے اس بات کو پوری طرح قابل فہم بنا دیا ہے۔ کمپیوٹر کی ایجاد نے موجودہ زمانے میں انٹرنیٹ اور ویب سائٹ کے طریقے کو دنیا میں رائج کر دیا ہے۔ تاریخ میں پہلی بار یہ ممکن ہوا ہے کہ عملاً ہر گھر میں اور ہر آفس میں کمپیوٹر داخل ہو گیا ہے۔ انٹرنیٹ اور ویب سائٹ پر تمام اسلامی معلومات بھری جا رہی ہیں۔ خود ہمارا دعوتی لٹریچر تقریباً سب کا سب، انٹرنیٹ پر ڈال دیا گیا ہے۔ اب دنیا کے کسی بھی مقام پر اور کسی بھی آفس یا گھر میں ایک شخص اپنے کمپیوٹر کے ذریعے، اسلام کے بارے میں پوری معلومات خود اپنی زبان میں حاصل کر سکتا ہے۔ اس معاملے پر غور کرتے ہوئے سمجھ میں آتا ہے کہ ہر گھر میں کلمۂ اسلام کے داخلے سے مراد امکانی داخلہ (potential entry) ہے، نہ کہ واقعی داخلہ (actual entry)۔ اور امکانی داخلے کے اعتبار سے بلاشبہ، اسلام کا کلمہ ہر گھر میں داخل ہو چکا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader