Urdu book · قیامت کا الارم

خلاصہ

Urdu book, p. 67

By Maulana Wahiduddin Khan

خلاصہ مذہب کی تاریخ بتاتی ہے کہ خدا نے جب انسان کو پیدا کیا تو شروع ہی سے انسان کی رہ نمائی کے لیے دنیا میں پیغمبر آتے رہے۔ پیغمبروں کا دور ، وہ دور ہے جب کہ وحی (revelation) کی سطح پر حقیقت کا علم دیا جاتا رہا۔ یہ سلسلہ جاری رہا، یہاں تک کہ جدید سائنسی انقلاب آیا۔ اب یہ ہوا کہ جو حقیقت پہلے وحی کی سطح پر بیان کی جارہی تھی، وہ خود علم انسانی کی سطح پر آخری حد تک مبرہن حقیقت بن گئی۔ (proved fact) اس طرح تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ الہامی کتاب (قرآن)، اور انسانی علم دونوں کے اعتبار سے مشترک طور پر مسلّمہ بنیاد (mutually accepted ground) فراہم ہوئی ہے، جس نے اس بات کو ممکن بنا دیا ہے کہ سچائی کی یقینی معرفت حاصل کی جاسکے۔ اس کے بعد معرفتِ حق کا کوئی اور درجہ باقی نہیں۔ اس کے بعد جو ہونے والا ہے، وہ صرف یہ کہ قیامت واقع ہو، اور خداوند ذو الجلال براہ راست طور پر انسان کے سامنے آجائے۔ اب آخری وقت آگیا ہے کہ تمام انسان جاگ اٹھیں۔ جو لوگ اب بھی نہ جاگیں، ان کو قیامت کا بھونچال جگائے گا، مگر اُس وقت کا جاگنا کسی کے کچھ کام نہ آئے گا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page