Urdu book · قرآن کا مطلوب انسان

با مقصد زندگی

Urdu book, p. 46

By Maulana Wahiduddin Khan

اب ان کا مقصد محض ایک بحث و گفتگو کا موضوع ہے جس پر وہ کبھی آپس میں دوسروں سے باتیں کر لیتے ہیں ۔ ان کے رسالے اور اخبار نکلتے ہیں ۔ مگر ان رسالوں اور اخباروں کی حیثیت مقصدی پرچوں سے زیادہ کاروباری اداروں کی ہے۔ ان کے اجتماعات بھی ہوتے ہیں۔ مگر ان اجتماعات کی حیثیت کسی مقصدی سرگرمی کی نہیں ۔ بلکہ وہ ماضی کی پڑی ہوئی ایک لکیر ہے جس پر وہ رسمی طور پر چلے جا رہے ہیں ۔ ان کے جماعتی فنڈ بھی ہیں جن میں وہ اپنی آمدنی کا ایک حصہ دیتے ہیں۔ مگر یہ دنیا یا دو تر جماعتی تقاضے کے تحت ہوتا ہے نہ کہ حقیقۂ انفاق فی سبیل اللہ کے جذبے کے تحت ۔ وہ اپنے خیالات کو پھیلانے کے لئے دورے اور تقریریں کرتے ہیں ۔ مگر یہ سب کسی مقصدی بے تابی کا نتیجہ نہیں ہوتا ۔ بلکہ یا تو محض روایتی ذوق کا اظہار ہوتا ہے یا اسی قسم کے جذبے کے تحت ہوتا ہے جیسے کسی فرم کی پلستی برانچ کا افسر اپنی ڈیوٹی انجام دینے کے لئے کیا کرتا ہے ۔ وہ اپنے مخصوص موضوعات پر کتابیں اور پمفلٹ چھاپتے ہیں ۔ مگر اس کی حقیقت اس کے سوا اور کچھ نہیں ہوتی کہ ایک بنے ہوئے حلقہ کی مانگ پوری کر دی جائے ۔ وہ عمل جو حقیقۂ داعیانہ جذبے کے تحت نکلتا ہے اور وہ عمل جو روایتی طور پر محض ڈیوٹی انجام دینے کے لئے کیا جاتا ہے، دونوں میں بڑا فرق ہے۔ ایک حقیقت ہے اور دوسرا حقیقت کی نقل ۔ ایک جگہ بات صرف حلق سے نکلتی ہے اور دوسری صورت میں آدمی جب بولتا ہے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس نے اپنے کلام میں اپنی پوری شخصیت کو انڈیل دیا ہے ۔ ایک صورت میں آدمی کا عمل صرف ایک لگی بندھی کاروائی نظر آتا ہے ، اور دوسری صورت میں اس کا عمل اس کے بے تاب جذبات کا اظہار ہوتا ہے ۔ ایک صورت میں آدمی کی تمام زندگی سراپا اس کے مقصد میں ڈوبی ہوئی ہوتی ہے اور دوسری صورت میں بعض مقصد نما اجزا اس کی غیر متعلق زندگی کے ساتھ اس طرح ادھر اُدھر اٹکے ہوئے ہوتے ہیں جیسے کسی مینار میں آم کے چند پتے ۔ یہ خطبہ ہر اس گروہ کو ہے جو ایک مقصد کو لے کر اٹھے اور اس پر اس کو پچیس پچاس سال گزر جائیں ۔ لیکن یاد رکھنے کوئی گروہ کسی وقت تک مقصدی گروہ ہے جب تک حقیقتۂ وہ مقصدی تڑپ کے تحت کام کر رہا ہو۔ اس کے بعد جب اس کی گاڑی اس سے اتر کر روایتی ڈگر پر چل پڑے ، جب اس کی سرگرمیاں بے تابانہ جذبات کے اظہار کے بجائے مقررہ کارروائی بن کر رہ جائیں ، تو وہ تحریک کے بجائے رسم اور جماعت کے بجائے انجمن بن جاتی ہے ۔ اس کے بعد بھی اگر چہ شکلًا وہ ایک مقصد گروہ کے مانند نظر آتا ہے ۔ مگر مقصدی حیثیت سے اب اس پر موت وارد ہو چکی ہوتی ہے ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page