Urdu book · قرآن کا مطلوب انسان

با مقصد زندگی

Urdu book, p. 47

By Maulana Wahiduddin Khan

وہ مقصد انسان نہیں ہوتا۔ بلکہ سابقہ بامقصد انسان کی لاش ہوتی ہے جو دیکھنے میں سابقہ انسان کی طرح نظر آتی ہے، مگر حقیقتاً انسان نہیں ہوتی۔ اللہ کو جو چیز مطلوب ہے وہ کوئی رسمی ڈھانچہ یا کوئی تنظیمی کارگزاری نہیں ہے۔ ایسے ڈھانچہ یا کارگزاری کا نمونہ تو مشیني انسان بھی پیش کر سکتے ہیں۔ اللہ کو ہمارے زندہ شعور اور ہمارے بیدار ارادہ کا نذرانہ مطلوب ہے۔ اللہ کو ہمارے عمل کا تقویٰ پہنچتا ہے نہ کہ عمل کے ظاہری ہنگامے عمل کے دوران ہم اپنے شعور کو جس طرح متحرک کرتے ہیں، ہماری نفسیات میں جو اندرونی ہلچل پیدا ہوتی ہے، عمل کرتے ہوئے ہمارے قلب و روح کو جو حسیاتی غذاملتی ہے وہی ہمارا اصل حاصل ہے۔ جب مقصديت زندہ ہو تو آدمی کا عمل ایک زندہ عمل ہوتا ہے اور جب مقصودیت مرجاتی ہے تو عمل ایک بے روح کارروائی بن کر رہ جاتا ہے۔ آدمی حرکت کرتا ہے مگر اس کی روح پر خود طاری رہتا ہے۔ آدمی ظاہری کارنامے دکھاتا ہے مگر آدمی کا اندرونی وجود اس طرح سویا رہتا ہے جیسے اس پر نیند طاری ہوگئی ہو۔ آدمی اوپر سے زندہ دکھائی دیتا ہے مگر اندر سے وہ ایک مرا ہوا انسان ہوتا ہے۔ اب میں ایک آخری بات کہہ کر اپنی گفتگو کو ختم کر دوں گا۔ اس طرح کی باتیں جب کہی جاتی ہیں تو بعض لوگ جواب دیتے ہیں ـــــــ آپ کی باتیں تو سب ٹھیک ہیں، ہم خود بھی اپنے اندر یہ چیز پیدا کرنا چاہتے ہیں، مگر سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ چیز کیسے پیدا ہو۔" یہ بظاہر ایک سوال ہے مگر حقیقتاً اس کے ذریعے سے اپنے الزام کو اپنے سے ہٹا کر اسے خارج کے اوپر ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے۔ مگر سوچیے کہ وہ خارج جس کے اوپر آپ اپنا الزام ڈالنا چاہتے ہیں وہ کون سا ہے؟ ظاہر ہے کہ وہ اس دنیا کا مالک خدا ـــــــــ ہے۔ اسی نے ساری چیزوں کو بنایا ہے۔ اس نے خارج کو الزام دینے کا مطلب یہ ہے کہ خدا نے یہ دنیا اس ڈھنگ سے بنائی ہے کہ ہم وہاں اپنے ایمانی تقاضوں کو حاصل کرنا چاہیں تو حاصل نہ کر سکیں۔ ظاہر ہے کہ یہ بالکل غلط بات ہے۔ خدا ص سے پاک ہے کہ اس پر یا اس کی تخلیق پر اس قسم کا الزام عائد ہو سکے ۔ اس لئے خارج پرجیب الزام ڈالا نہیں جاسکتا تو بالمالہ وہ آپ کی طرف لوٹے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ ہماری اپنی ذات کے سوا اور کوئی نہیں ہے جو ہماری ترقی کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے والا ہو۔ اچھی طرح سمجھ لیجئے کہ فطرت اور حقیقت میں تضاد نہیں ہو سکتا۔ اگر یہ حقیقت ہے کہ ہم کو ایسا ہی بننا چاہیے تو لازماً ہماری فطرت اور کائنات کو ایسا ہونا چاہیے کہ ہم ایسے بن سکیں۔ اس لئے ہر خرابی کا سبب اپنے اندر ڈھونڈئیے کیوں کہ آپ کے باہر در حقیقت کوئی چیز ہی نہیں ہے جہاں یہ اسباب پائے جارہے ہوں (الفرقان محرم ۱۳۸۴ھ) 27| جماعت اسلامی ضلع اعظم گڑھ کے ایک اجتماع میں کی گئی تقریر - ۱۹۶۳ء

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page