یہ بے حسی کیوں
Urdu book, p. 48
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ بے حسی کیوں مجھ کو جب یہ حکم ملا کہ اس وقت کی مجلس میں مجھے کچھ کہنا ہے، تو میں نے سوچنا شروع کیا کہ وہ کیا بات ہے جو مجھے آپ سے کہنی چاہئے۔ یہ چونکہ نصیحت، یا قرآن کے الفاظ میں تواصی بالحق اور تواصی بالصبر کی مجلس ہے، اس لئے اس مناسبت سے بہت سی باتیں ذہن میں آئیں ۔ میں ابھی سوچ ہی رہا تھا کہ اچانک ایک سوال نے میرے سلسلے خیال کو توڑ دیا ــــــــ "تم جو باتیں سوچ رہے ہو کیا وہ سننے والوں کے لئے نئی ہیں، کیا ان کے کان بار بار یہ دازیں نہیں سن چکے ہیں۔ پھر جن الفاظ نے اس سے پہلے کوئی اثر نہیں دکھایا ، نہ ہی الفاظ ایک مرتبہ اور دہرادینے سے کیا انقلاب آجائے گا"، اس سوال کا آنا تھا کہ میرے سارے خیالات اس طرح منتشر ہو گئے جیسے یکایک ہوا کا تیز جھونکا آئے اور تنکوں اور پتوں کے ڈھیر کو اڑا لے جائے ۔ اب میں دم بخود تھا۔ "آخر اس بے حسی کی وجہ کیا ہے " یہ سوال میرے سامنے گھومنے لگا۔ مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے میں نے ساری باتیں کہہ ڈالی ہیں اور اب میرے پاس آپ سے کہنے کے لئے کچھ نہیں ہے۔ میری مثال اس مقرر کی سی ہو گئی جو اپنی پوری تقریر ختم کر چکا ہو۔ مگر ساری قوت صرف کرنے کے بعد آخر میں جب وہ حاضرین سے کہے کہ لگائیے نعرہ "انقلاب زندہ باد، تو سامنے بیٹھے ہوئے ہزاروں انسانوں میں سے کسی ایک کی زبان بھی حرکت میں نہ آئے۔ وہ بار بار کہے کہ وہ لگائیے نعرہ ، مگر ہر شخص اس طرح خاموش بیٹھا ہے گویا کسی کے منہ میں زبان ہی نہیں ہے۔ عین اس وقت مجھے دور سے ایک آواز سنائی دی۔ مجھے نظر آیا کہ امام ترمذی سے لے کر کعب بن عیاض تک انسانوں کی ایک جماعت ایک دوسرے کو پکار رہی ہے کہ آخری رسول کا یہ پیغام اس بندۂ خدا تک پہنچا دو، کیوں کہ اسی پیغام میں اس کے سوال کا جواب ہے : حدثنا احمد بن منيع نا الحسن بن سوار (نا امام ترمذی سے کہا احمد بن منيع نے، ان سے کہا حسن بن سوار ليث بن سعد عن معاوية بن صالح عن عبد نے، ان سے کہا لیث بن سعد نے، ان سے کہا معاویہ بن الرحمن بن جبير بن نفير حدثله عن ابيه عن صالح نے ، ان سے کہا عبد الرحمن بن جبیر نے، ان سے کہا کعب بن عياض قال سمعت النبي صلی اللہ علیہ ان کے باپ نے ، ان سے بیان کیا کعب بن عیاض نے، وسلم يقول : ان لكل امة فتنة وفتنة امتى انھوں نے کہا کہ میں نے سنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے، المال (ترمذی ، ابواب الزہد) آپ نے فرمایا ۔ ہر امت کا ایک فتنہ تھا اور میری امت کے لئے جو چیز فتنہ بنے گی وہ مال ہے ۔ اس فقرے میں "مال"، دراصل "دنیا" کا قائم مقام ہے۔ کیوں کہ دنیا کی وہ تمام چیزیں جن کو عاجلہ پسند انسان للچائی ہوئی نظروں سے دیکھتا ہے وہ مال ہی کے ذریعہ حاصل ہوتی ہیں۔ مال دنیا کے ساز و سامان کی قیمت ہے۔ جیسا کہ قرآن سے معلوم ہوتا ہے ، یہی دنیا ہر زمانے میں انسانوں کی گمراہی کا سبب رہی ہے۔ مگر عہد کے دور

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader