یہ بے حسی کیوں
Urdu book, p. 49
By Maulana Wahiduddin Khan
میں یہ فتنہ پوری شدت سے ظاہر ہونے والا تھا۔ اس لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو خاص طور پر امت اسلامیہ کا فتنہ قرار دیا۔ پہلے آدمی جن لذائذ ونعم کا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا وہ آج سائنسی تحقیقات کے نتیجہ میں واقعہ بن کر انسان کو حاصل ہو چکی ہیں۔ یہی نہیں، پہلے دنیا کی جو رنگینیاں اور اس کے دل کش ساز و سامان صرف کسی بادشاہ کے محل میں ہوتے تھے، وہ آج خوب صورت الماریوں میں سجے ہوئے بازار کے اندر نظر آتے ہیں، وہ آج در و دیوار پر رنگین اشتہارات کی صورت میں لگے ہوئے ہیں، وہ پوری رعنائی کے ساتھ سڑکوں پر ظاہر ہو کر ہر راہ گیر کو اپنی طرف کھینچ رہے ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ دنیا اس سے پہلے کبھی اتنی حسین نہیں تھی ، اس لئے وہ اس سے پہلے انسان کے لئے اتنا بڑا ففتہ بھی نہیں بن سکتی تھی ۔ یہاں میں ایک واقعہ کا ذکر کروں گا جو ابھی حال میں اخبارات میں آیا تھا۔ نئی دہلی میں ہندوستان کے بین اقوامی صنعتی میلہ میں امریکہ کی طرف سے ایک ہوائی موٹر کار کی نمائش کی گئی ہے جس کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ زمین پر بھی چلتی ہے اور ساتھ میل فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوا میں بھی اڑ سکتی ہے۔ اس عجیب و غریب کار کو جب ایک نوجوان سادھو نے دیکھا تو اس کے سامنے ایک نیا مسئلہ پیدا ہو گیا ” کیا میں تیاگ اور قربانی کی زندگی کو چھوڑ کر مادی ترقیّاً کی دنیا میں اپنے حوصلوں کی تسکین ڈھونڈلوں “، سادھو نے کہا۔ گیروے کپڑے میں ملبوس اور لمبے بکھرے ہوئے بالوں والا یہ ہندوستانی نوجوان بیس منٹ تک اس امریکی کار کو دیکھتارہا جس کو نمائش کے ذمہ داروں نے مستقبل کی کار Car of the Future کا نام دیا ہے جب اس کے بارے میں سادھو کا تبصرہ پوچھا گیا تو اس نے گہرے تاثر کے ساتھ جواب دیا ” اس نے مجھے اس سوچ میں ڈال دیا ہے کہ دونوں دنیاؤں میں سے وہ کون سی دنیا ہے جس کو میں اپنے لئے زیادہ بہتر سمجھوں۔ “ (ہندوستان ٹائمس ۲۰ نومبر ۱۹۶۱) یہ واقعہ بتاتا ہے کہ مادی ساز و سامان نے آج کس طرح ہر شخص کو اس خطرے میں مبتلا کر دیا ہے کہ وہ ان کی ظاہری چمک دمک سے متاثر ہو کر زندگی کی اصل حقیقت کو بھول جائے ۔ اس حدیث سے میرا ذہن اس طرف منتقل ہوا کہ امت محمدیہ کے افراد میں جب کوئی کمزوری نظر آئے تو اس کے اسباب سب سے پہلے دنیا کے فتنوں میں تلاش کرنے چاہئیں۔ جب اس امت کا فتنہ دنیا ہے تو امت کی خرابیاں بھی دنیا ہی کی پیدا کی ہوئی ہوں گی۔ جب میں نے اس حیثیت سے غور کیا تو بالآخر میرا ذہن اس پر مطمئن ہو گیا کہ دنیاہی وہ سبب سے بڑا روک ہے جو حق کی آواز کو آدمی کے لئے قابل فہم اور قابل قبول بننے نہیں دیتا۔ اسلام کی بلند تر حقیقتوں کو وہی شخص پاسکتا ہے جو دنیا اور دنیا کی چیزوں سے اپنے آپ کو اوپر اٹھا چکا ہو۔ جو اس سے اوپر نہ اٹھ سکے اس کے عین سر کے اوپر حقیقت کی آواز گونج رہی ہوگی مگر اس کو گرفت کرنے کی طاقت سے وہ محروم ہوگا۔ اس کے پاس وہ کان نہیں ہوں گے جن سے وہ سنے اور وہ دل نہیں ہوگا جن سے وہ اسے سمجھے آپ کی سعادت و ترقی کے تمام امکانات اس وقت تک آپ سے دور رہیں جب تک آپ کی تو جہات دنیا کے اندر بگھیری ہوئی ہوں۔ آپ کا مومن بننا، آپ کا دائی بننا، آپ کا مجاہد فی سبیل اللہ بننا، سب کچھ منحصر ہے اس بات پر کہ اس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader