دعوتِ اسلامی کے کارکنوں کی ذمہ داریاں
Urdu book, p. 60
By Maulana Wahiduddin Khan
دعوت اسلامی کے کارکنوں کی ذمہ داریاں دنیا میں روزانہ لاکھوں آدمی پیدا ہوتے ہیں اور لاکھوں آدمی مرجاتے ہیں۔ وہ یہاں آنکھیں بند کئے ہوئے آتے ہیں اور تھیں کچھ معلوم نہیں ہوتا کہ ان کی زندگی کا مقصد کیا ہے اور انھیں کیا کرنا چاہئے۔ پھر صحیح یا غلط جو کچھ ان کی سمجھ میں آتا ہے کرتے ہیں اور دوبارہ آنکھیں بند کرکے اسی دنیا کی طرف لوٹ جاتے ہیں جہاں سے وہ آئے تھے۔ وہ نہیں جانتے کہ وہ کہاں جارہے ہیں اور آئندہ ان کے ساتھ کیا معاملہ ہونے والا ہے۔ یہ ایک عظیم خطرہ ہے جس سے انسانی نسل دوچار ہے۔ دنیا کی مثال ایک ایسی ریل گاڑی کی ہے جو بہت تیزی کے ساتھ اپنی پٹری پر دوڑی چلی جارہی ہے۔ اس کو کچھ نہیں معلوم کہ آگے کیا ہے۔ حالانکہ آگے کا پل ٹوٹ چکا ہے اور وہاں پہنچتے ہی وہ اپنے انجن اور گاڑی سمیت الٹ جائے گی اور اس کے بعد تمام مسافر خواہ وہ اوپر کے درجہ میں سفر کر رہے ہوں یا نیچے کے درجہ میں ، سب کے سب ایک ہی ہولناک انجام سے دوچار ہوں گے ، حتیٰ کہ اس وقت کوئی خطرہ کی زنجیر بھی نہ ہوگی جس کو کھینچ کر وہ اپنے آپ کو تباہی سے بچا سکیں ــــــــــــــ یہ زندگی کے بعد آنے والے روزِ حساب کا خطرہ ہے جو ہم کو اور ساری دنیا کو درپیش ہے۔ یہ اس اصل زندگی کا مسئلہ ہے جو ہمارے آج کے اعمال کے نتیجہ میں ہم کو آئندہ دائمی طور پر گزارنی ہوگی۔ وہ زندگی یا تو بہت خوش گوار ہے یا بے حد درد ناک ۔ دنیا کے لوگ زندگی میں ہائپر دوجن کم کے خطرہ سے گھبرائے ہوئے ہیں۔ مگر موت کے بعد ہر شخص کے سامنے جہنم کے عذاب کا خطرہ ہوگا جو اس سے بھی زیادہ خوفناک ہے۔ اس خطرہ سے آپ ہی دنیا کو باخبر کر سکتے ہیں۔ سوچیئے کہ اس بھاری ذمہ داری کے لئے آپ کیا کر رہے ہیں۔ دنیا نادان ہے اور آپ علم رکھتے ہیں۔ دنیا سے صرف یہ پوچھا جائے گا کہ اس نے خدا کے حکم کے مطابق زندگی بسر کی یا نہیں۔ مگر آپ سے اس کے سوائے سوال بھی ہوگا کہ بھٹکے ہوئے انسانوں کو راہِ راست پر لانے کے لئے تم نے کیا کیا۔ دنیا کو صرف اپنا جواب دینا ہوگا اور آپ کو اپنا بھی اور دنیا والوں کا بھی۔ یہ عظیم ذمہ داری جو آپ کے حصہ میں آئی ہے ، اس کا خیال بھی آپ کو بے چین کر دینے کے لئے کافی ہے۔ اس کا تقاضا ہے کہ آپ کی راتوں کی نیند اور دن کا سکون حرام ہو جائے۔ دنیا کی لذتوں اور آسائشوں میں آپ کے لئے کوئی دل چسپی باقی نہ رہے، آپ یہ بھول جائیں کہ آپ بھی کچھ ضروریات رکھتے ہیں آپ کو صرف یہ یاد رہے کہ دنیا کو آپ کی ضرورت ہے۔ آپ کو اپنے گھروں ، اپنی جائیدادوں اور اپنے اہل و عیال سے زیادہ دنیا کی اصلاح کی فکر ہو۔ آپ کی زبانوں پر ہر وقت اسی کا چرچا ہو کیوں کہ اس کے سوا جو کچھ ہے اس کا چرچا کرنے والے دنیا میں بہت لوگ ہیں آپ ان میں مشغول ہو کر اپنا وقت ضائع کریں گے اور دنیا کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکیں گے۔ آپ کے قدم حرکت کریں تو اسی راہ میں حرکت کریں کیوں کہ اس کے سوا جتنے راستے ہیں وہ سب یا تو غلط ہیں یا بے فائدہ ۔ آپ کے اوقات یا تو زندگی کی ناگزیر ضروریات فراہم کرنے میں صرف ہوں یا پھر اسی دعوتی مقصد کے لئے جدوجہد کرنے میں۔ آپ کی خواہشات ، آپ کی تمناؤں اور آپ کی دل چسپیوں کا کوئی دوسرا مرجع باقی نہ رہے۔ آپ ہر طرف سے کٹ کر صرف اسی ایک کام کے ساتھ جڑ جائیں۔ آپ کی جانوں اور مالوں پر صرف اسی چیز کا حق ہو۔ غرض آپ اور جو کچھ آپ کے پاس ہے ان سب پر سب سے پہلے اسلامی دعوت کا حق ہو اور اس کے بعد

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader