Urdu book · قرآن کا مطلوب انسان

خدمتِ دین کی مشکلات

Urdu book, p. 76

By Maulana Wahiduddin Khan

دراصل یہ ہے کہ وہ حالات کو اس طرح ہمارے موافق بنا دے گا کہ ہم آسانی اپنی ضروریات پوری کر سکیں۔ وہ ایسے امکانات پیدا کرے گا جن کو استعمال کرکے ہم اپنی کار برآری کر سکتے ہوں، وہ لوگوں کے دلوں میں ہمارے متعلق ایسے خیالات ڈالے گا کہ وہ ہمارے کام آسکیں، وہ ہمارے ذہن کو ایسی تدبیروں کی طرف لے جائے گا، جس کے بعد مسائل خود بخود حل ہو جائیں گے۔ وہ ایمان کی برکت سے ذہنی اور نفسیاتی صلاحیتوں کو ایسی جلا دے گا کہ کم صلاحیت والے بہتر صلاحیت والوں سے زیادہ کام کر سکیں گے، مقابلے کے وقت وہ ہمارے دل کو مضبوط کرے گا اور دشمن کو مرعوب کرکے شکست کو آسان بنا دے گا۔ مختصر یہ کہ ہمارے کام بھی انہیں ظاہری حالات کے اندر ہوں گے جیسے سب کے ہوتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ ایمان کی برکت اور اللہ تعالیٰ کی توجہ کی بنا پر حالات میں کچھ ایسا غیر معمولی پن آجاۓ گا کہ کمتر وسائل سے ہم زیادہ کام لے سکیں گے اور معمولی ساز و سامان کے باوجود زیادہ نتائج حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ دوستو! یہ باتیں جو میں نے آپ کے سامنے عرض کی ہیں، یہ کوئی جذباتی نعرہ نہیں ہے اور نہ شاعری ہے۔ یہ ایک سراپا حقیقت کا اظہار ہے۔ اگر اس دنیا میں کوئی چیز ممکن ہے تو سب سے بڑا ممکن یہ ہے کہ بندہ جب خدا کی مدد کا محتاج ہو تو خدا اس کی مدد کرے۔ اس زمین و آسمان میں ہر دوسرے امکان کے بارے میں مجھے شبہ ہو سکتا ہے۔ مگر یہ امکان میرے لئے ہر شبہ اور تردّد سے بالا تر ہے کہ خدا اپنے ان بندوں کی مدد کرتا ہے جو اس کے دین کی مدد کے لئے اٹھتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ بندے کے اندر کوئی ذاتی طاقت ہے بعض مذاہب کی طرح میں اس نظرئے پر کوئی عقیدہ نہیں رکھتا کہ انسان اپنی ریاضت سے خدا کو یا فطرت کی برتر طاقتوں کو مسخر کر لیتا ہے۔ میرے نزدیک یہ بالکل لغو بات ہے۔ خدا کی مدد کو میں سب سے زیادہ قطعی اس لئے قرار دے رہا ہوں کہ یہ خدا کی اپنی صفت ہے۔ خدا کا رحیم اور قادر ہونا، اس کا خالق اور مالک ہونا۔ لازمی طور پر تقاضا کرتا ہے کہ وہ اپنے عاجز اور محتاج بندوں کی مدد کرے۔ یاد رکھیئے کہ یہ خدا کی شانِ خدائی کے بالکل خلاف ہے کہ وہ بندوں کو عاجز و مجبور کی حیثیت سے پیدا کرے ۔ اور جب بندوں کا عجز ، کسی ضرورت کا محتاج ہو تو وہ ان کی مدد نہ فرمائے۔ یہ خدا کی شان کے خلاف ہے ، اس لئے یہ قطعا نا ممکن ہے ۔ دوستو! اگر آپ کے پاس سننے کے لئے کان ہوں تو خدا کی کتاب پکار رہی ہے ــــــــ من انصاری الی اللہ کون ہے جو خدا کے کام میں اس کا مددگار بنے) اور اسی کے ساتھ اس میں یہ ضمانت بھی موجود ہے کہ ــــــ ان تنصروا الله ينصرکم) اگر تم خدا کی مدد کے لئے اٹھو گے تو خدا تمھاری مدد کرے گا) خدا آپ کو ایسے کام کے لئے پکار رہا ہے جس میں وہ خود آپ کا مددگار ہے۔ دین کی خدمت خدا کی معیت کا راستہ ہے۔ اس کی مدد سے ہم کنار ہونے کا راستہ ہے۔ یہ وہ راستہ ہے جو آپ کو جنت کی طرف لے جاتا ہے ، اگر ایک ایسے کام کے لئے بھی آپ نہیں اٹھیں گے تو اور کس کام کے لئے اٹھیں گے۔ اور اس خدمت کے بغیر مرگئے تو خدا کا سامنا کس طرح کریں گے۔ اٹھئے کہ اس سے بڑا کوئی کام نہیں، اٹھئے کہ اس سے بڑی کوئی سعادت نہیں ہوسکتی (الفرقان ربیع الثانی ۱۴۸۴ھ)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page