Urdu book · قرآن کا مطلوب انسان

ہمیں کیا کرنا ہے

Urdu book, p. 77

By Maulana Wahiduddin Khan

ہمیں کیا کرنا ہے ہمیں کیا کرنا ہے“۔ اس سوال کا جواب ایک لفظ میں یہ ہے کہ ہمیں اپنے آپ کو اور دوسرے بندگانِ خدا کو آگ کے عذاب سے بچانا ہے۔ قرآن نے زندگی کا جو تصور دیا ہے اس کے مطابق زندگی کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ آدمی آخرت میں خدا کی گرفت سے بچ سکے۔ اس آنے والے دُل کی سختیوں سے اپنے آپ کو بچانا اور دوسرے انسانوں کو اس سے بچنے کی تلقین کرنا ۔ یہی مسلمان کا اصل کام ہے اور اس کے سارے اعمال کا مرکز و محور یہی ایک چیز ہے۔ ہمارے ملک میں جو سب سے بڑا حادثہ پیش آ رہا ہے وہ یہ کہ یہاں بسنے والے انسانوں میں سے ہر روز تقریباً ڈیڑھ لاکھ آدمی مر جاتے ہیں۔ کوئی نہیں جانتا کہ موت کے فرشتے کل کے لئے جن ڈیڑھ لاکھ آدمیوں کی فہرست تیار کر رہے ہیں اس میں ہمارے ملک کے باشندوں میں سے کس کس کا نام ہو۔ ہم میں سے ہر شخص کو موت آنی ہے، مگر ہم میں سے کوئی شخص نہیں جانتا کہ اس کی موت کب آئے گی اور جن لوگوں کے درمیان ہم زندگی گزار رہے ہیں ان کے متعلق بھی کچھ نہیں معلوم کہ ان میں سے کون کل اٹھا لیا جائے گا اور کون کل کے بعد ہمارا پیغام سننے کے لئے باقی رہے گا۔ ایک طرف یہ حقیقت ہے اور دوسری طرف یہ واقعہ کہ موت ہماری زندگی کا خاتمہ نہیں بلکہ ہماری اصل زندگی کا آغاز ہے۔ موت دراصل کسی انسان کا وہ وقت ہے جب وہ کائنات کی عدالت میں آخری فیصلے کے لئے پیش کر دیا جاتا ہے۔ اب اگر آپ ان دونوں چیزوں کو ملادیں، یعنی زندگی کی بے اعتباری اور یہ کہ زندگی کا اصل مسئلہ کیا ہے، تو فوراً آپ کی سمجھ میں آجائے گا کہ ہمیں کیا کرنا چاہئے۔ موت سے پہلے آدمی کو بہت سے کام نظر آتے ہیں۔ مگر موت کے بعد آدمی کے سامنے ایک ہی کام ہوگا۔ وہ یہ کہ خدا کے غضب سے وہ کس طرح بچے ۔ جب آدمی کے پاس بہت زیادہ وقت ہو تو وہ بہت سے کام چھیڑ دیتا ہے مگر جس کو وقت کے صرف چند لمحے حاصل ہوں وہ صرف وہی کام کرتا ہے جو انتہائی ضروری ہے فیصلے کن لمحات میں کوئی شخص غیر متعلق کام میں مصروف ہونے کی حماقت نہیں کر سکتا۔ یہ آنے والا وقت ہم میں سے ہر شخص کی طرف دوڑا چلا آرہا ہے۔ ہر زندہ انسان اس خطرے میں مبتلا ہے کہ کل اس کی موت آجائے اور اس کے بعد نہ اس کے لئے سننے کا موقع باقی رہے اور نہ ہمارے لئے سنانے کا۔ یہ صورتِ حال خود بتا رہی ہے کہ آپ کے کرنے کا کام کیا ہے۔ آپ کے کرنے کا کام یہ ہے کہ آپ اس ملک کے ایک ایک شخص تک پہنچیں اور اس کو زندگی کے حقیقی مسئلے سے آگاہ کریں۔ اس ملک کی آبادی اگر ساٹھ کروڑ ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ آپ کو ساٹھ کروڑ کام کرنے ہیں۔ کیوں کہ آج کا ہر انسان حقیقت سے غافل ہے۔ ہر آدمی اس بات کا حاجت مند ہے کہ اس کو حقیقت کا علم پہنچایا جائے ۔ ہمارے رہنما حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو جب دعوتِ حق کے کام پر مامور کیا گیا تو آپ نے مکہ میں ایک تقریر کی ۔ نبی کی حیثیت سے یہ آپ کی پہلی تقریر تھی۔ حمد وثنا کے بعد آپ نے فرمایا: اِنَّ اللهَ اِنَّ لَا يَكْذِبُ اَهْلَهُ وَاللَّهِ لَوْ كَذَبْتُ النَّاسِ رائد اپنے آدمیوں سے جھوٹ نہیں بول سکتا خدا کی قسم اگر میں جَمِيعاً ما كَذَبْتُكُمْ وَلَوْ فَجَرْتُ النَّاسَ جميعاً ما تمام لوگوں سے جھوٹ کہہ سکتا جب بھی تم سے جھوٹ نہ کہتا۔ اور

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page