Urdu book · قرآن کا مطلوب انسان

ہمیں کیا کرنا ہے

Urdu book, p. 78

By Maulana Wahiduddin Khan

غَدْرَكُمْ كَاللّٰهِ الَّذِيْ لَآ اِلٰهَ إِلَّا هُوَاِنِّي لَرَسُوْلُ اللَّهِ اگر میں تمام لوگوں کو دھوکا دے سکتا جب بھی تھیں دھوکا نہ إِلَيْكُمْ خَاصَّةً وَإِنِّى النَّاسِ كَا قَّةً وَاللَّهِ لَتَمُوْتُنَّ كَمَا دیتا۔ اس خدا کی قسم جس کے سوا کوئی خدا نہیں، میں خدا کی طرف تَمُنَّوْنَ وَلَتَبْعَثُنَّ كَمَا تَسْتَيْقِظُوْنَ وَلَتَحَاسَبُنَّ بِمَا سے بھیجا ہوا رسول ہوں تمھاری طرف خاص طور پر اور دوسرے تَعْمَلُوْنَ وَلَتَجْزَوْنَ بِالْاِحْسَانِ اِحْسَانَا وَّبِالسُّوْءِ انسانوں کی طرف عام طور پر۔ خدا کی قسم تمھیں مرنا ہے جس طرح سُوْءَاً اِنَّهَا لَجَنَّةٌ اَبَدًا اَوْ لَنَارُ اَبَدًا تم سوتے ہو اور پھر اٹھیں اٹھنا ہے جس طرح تم جاگتے ہو۔ اور (جمهرة خطب العرب، حصہ اول، صفحه ۵۱) یقینا تم سے تمھارے اعمال کا حساب لیا جائے گا۔ پھر اچھے عمل کا اچھا بدلے گا اور برے عمل کا برابر لہ۔ اس کے بعد یا تو ہمیشہ کے لیے جنت ہے، یا ہمیشہ کے لیے آگ۔ ایک روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا: اَنَا النَّذِيرُ الْعُرْيَانُ (متفق علیہ) یعنی میرا کام تم کو آخرت کے عذاب سے ڈرانا ہے جس طرح ’’نذیر عریان‘‘ اپنے قبیلے کو آنے والے خطرے سے ہوشیار کرتا ہے۔ اسی لئے نبی کو قرآن میں ’’نذیر و بشیر‘‘ کہا گیا ہے۔ یعنی وہ مستقبل کے خطرے سے لوگوں کو آگاہ کرتا ہے اور جو لوگ اس کے مطابق اپنے کو بنا لیں ان کو اس بات کی خوش خبری دیتا ہے کہ وہ کامیاب ہوں گے۔ اور اسی لئے امت مسلمہ کا مقصد ’’شہادت حق‘‘ بتایا گیا ہے۔ یعنی لوگوں کے سامنے اس بات کو واضح کر نا کہ حق کیا ہے اور خدا کے یہاں ان کی نجات کا دار و مدار کس چیز پر ہے۔ یہ خدا کی طرف بلانا اور آنے والے دن سے ہوشیار کرنے کے لئے نذیر عریان بن جانا وہ سب سے بڑا انقلابی پرو گرام ہے جس سے اب تک انسان واقف ہوا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس سے بڑے کسی عملی پرو گرام کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔ دوسرے پرو گرام جو دنیا میں اختیار کئے جاتے ہیں وہ اپنے الفاظ اور نفروں کے لحاظ سے بہت بڑے بڑے معلوم ہوتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ سب کے سب نہایت حقیر اور محدود ہیں۔ ان کا دائرہ انسانی زندگی میں تھوڑی تھوڑی دور جا کر ختم ہو جاتا ہے۔ اس کے مقابلے میں یہ نظریہ انسان کے اندر آخری حد تک سرایت کرتا ہے، یہ فساد کبیر کے خلاف جہاد عظیم ہے جو دعائی کو سرتا پا مصرف بنا کر رکھ دیتا ہے۔ وہ اس کے تمام ظاہری و باطنی معاملات میں انقلاب برپا کرنے والا ہے۔ یہ کام اپنی ابتدا میں ایک کام ہے مگر جب وہ عمل میں آتا ہے تو شاخ در شاخ پھیلتا ہو انرار کام بن جاتا ہے۔ جو لوگ صرف اقتدار کے لئے اٹھتے ہیں ان کا کام اس وقت ختم ہو جاتا ہے جب وہ ایک حکمراں خاندان کو قتل کر دیں یا چند سیاسی لیڈروں کو زیر کر کے ان سے حکومت کی کرسی چھین لیں۔ جب کہ یہ نظریہ ان تمام انسانوں کو فتح کرنا چاہتا ہے جو زمین کے اوپر چل پھر رہے ہیں۔ سماجی اصلاح کا پرو گرام چند اسکول اور چند اسپتال بنوانے کے بعد مطمئن ہو جاتا ہے اور سمجھتا ہے کہ اس کا کام ہو گیا ، جب کہ یہ نظریہ دلوں اور دماغوں کو بدل کرنے قسم کے انسان سوچنے میں لانا چاہتا ہے جس سے زیادہ مشکل کوئی کام اس سرزمین کے اوپر نہیں ہے۔ معاشی اسکیمیں چند سال کی دنیوی زندگی کے لئے کچھ نشانے آدمی کے سامنے رکھ دیتی ہیں۔ جب کہ یہ نظریہ لا تناہی زندگی کی بے حساب کامرانیاں حاصل کرنے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page