راہِ عمل
Urdu book, p. 9
By Maulana Wahiduddin Khan
تب بھی ہمیں قلب کی درستگی پر سارا زور صرف کرنا ہوگا۔ قلب کی درستگی پر زور دینا ”اتباع صراط“ ہے تو جسم کی درستگی پر زور دینا ”اتباع سُبل“۔ اس اصول کو سامنے رکھ کر موجودہ زمانے کی مسلم تحریکوں کو دیکھیے تو مسلمانوں کی تقریباً تمام بڑی بڑی تحریکیں اتباعِ صراط کے بجائے اتباع سُبل کا نمونہ نظر آتی ہیں۔ یہ تحریکیں دین کی اصل شاہراہ پر سفر کرنے کے لیے نہیں اٹھائی گئیں۔ بلکہ متفرق راستوں میں سے کسی راستے پر دوڑنے کے لیے اٹھائی جاتی رہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان تحریکوں کی غیر معمولی مقبولیت کے باوجود دین کا باغ اب تک ہرا بھرا نہ ہو سکا۔ یہاں ہم کچھ مثالیں درج کرتے ہیں جن سے معاملے کی وضاحت ہوتی ہے۔ آفاقی حقیقت اتباعِ صراط اور اتباعِ سُبل ایک عالم گیر حقیقت ہے۔ دنیا کے معاملات میں بھی اس کی اتنی ہی اہمیت ہے۔ جتنی دین کے معاملات میں۔ دنیوی معاملات میں اس کی اہمیت سمجھنے کے لیے یہاں ایک مثال درج کی جاتی ہے۔ یہ مثال جاپان اور ہندوستان سے متعلق ہے۔ جاپان اور ہندوستان دونوں ملکوں نے دوسری جنگِ عظیم کے بعد اپنے دورِ جدید کا آغاز کیا۔ جاپان نے امریکی محکومی میں مبتلا ہو کر اور ہندوستان نے برطانی محکومی سے آزاد ہو کر۔ عجیب بات ہے کہ چالیس سال بعد آج جاپان انتہائی ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں شامل ہو چکا ہے۔ جب کہ ہندوستان ابھی تک ”تیسری دنیا“ کے دائرے سے باہر آنے میں کامیاب نہ ہو سکا۔ اس فرق کا سبب یہ ہے کہ جاپان نے جڑ کے مقام سے اپنی تعمیرِ نو کا آغاز کیا۔ اور ہندوستان نے شاخوں اور پتیوں کے مقام سے۔ ایک امریکی عالم ولیم اوچی (William Ouchi) کے الفاظ میں جاپان نے جس چیز کو نمبر ایک کی اہمیت دی وہ اپنے کارکنوں کے اندر داعیہ پیدا کرنا (motivation of the employees) تھا۔ اس مقصد کے لیے جاپان نے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader