راہِ عمل
Urdu book, p. 10
By Maulana Wahiduddin Khan
سب سے زیادہ زور نئی نسلوں کی سائنٹفک تعلیم پر دیا۔ اس نے اپنے بہترین وسائل اور بہترین دماغ ابتدائی تعلیم کے محاذ پر لگا دیے ۔ اس نے اپنی پوری جدید نسل کے اندر یہ شعور پیدا کر دیا کہ زندگی میں سب سے زیادہ اہمیت معیار (quality) کی ہے۔ اس کا نتیجہ جاپان میں زبردست صنعتی ترقی تھی۔ اس نے جدید تاریخ میں پہلی بار اپنی صنعتی پیداوار کو خالی از نقص (zero-defect) کے درجے تک پہنچا دیا۔ جاپان نے جڑ کے مسئلے پر توجہ دی ، اس کے نتیجے میں اس کی جڑ بھی مضبوط ہوئی اور اس کی شاخیں بھی ہری بھری ہو گئیں۔ ہندوستان کی تصویر اس کے بالکل برعکس صورت حال کا نمونہ پیش کرتی ہے۔ 1947ء میں آزادی کے بعد جن ہندوستانی لیڈروں کے ہاتھ میں ملک کا اقتدار آیا وہ حقیقت سے زیادہ ظواہر کو اہمیت دیتے تھے۔ چنانچہ انھوں نے سب سے زیادہ جس چیز پر توجہ دی وہ شاندار عمارتیں کھڑی کرنا تھا۔ ہندوستان کے حالات میں اصل کام کیریکٹر بلڈنگ کا تھا۔ مگر یہاں کے حکمرانوں نے سب سے زیادہ زور بھون بھونڈگ پر دیا۔ نتیجہ یہ ہے کہ ہندوستان کے شہر ایسے قبرستان بن گئے ہیں جہاں عالیشان عمارتوں کے اندر انصاف اور انسانیت کو دفن کر کے رکھ دیا گیا ہے۔ رشوت اور لوٹ اور بدعنوانی کی ایک وسیع دنیا ہے جس کا دوسرا نام ہندوستان ہے ۔ 1947ء کے بعد ہندوستانی رہنماؤں نے اگر صحیح معنوں میں کیر کٹر بلڈنگ پر زور دیا ہوتا تو آج ہندوستان جاپان اور چین سے آگے ہوتا ۔ مگر جب انھوں نے بھون بلڈنگ پر زور دیا تو ان کے حصے میں صرف ایک ایسا ہندوستان آیا جہاں کرپشن کی بھر مار نے ترقی کا امکان ہی سرے سے ختم کر دیا ہو۔ ایک مثال دینی اعتبار سے اتباع صراط اور اتباع سُبل کیا ہے اور ان دونوں میں کیا فرق ہے، اس کو سمجھنے کے لیے ایک مثال لیجیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قدیم عرب میں شراب

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader