Urdu book · راہِ عمل

راہِ عمل

Urdu book, p. 8

By Maulana Wahiduddin Khan

بقیہ تمام چیزیں اسی سے پیدا ہوتی ہیں۔ اس کے برعکس، اگر ضمنی اور فروعی باتوں کو زور و تاکید کا موضوع بنایا جائے تو یہ تغیرِ اہمیت (shift of emphasis) کے ہم معنی ہوگا، اور تغیرِ اہمیت کے بعد کبھی کسی قوم میں حقیقی دینی زندگی پیدا نہیں کی جاسکتی۔ جڑ اور شاخیں قرآن میں کلمۂ ایمان کو درخت سے تشبیہ دی گئی ہے۔ (14:24) یہ تشبیہ بہت با معنی ہے۔ درخت کا ایک حصہ وہ ہے جو جڑ کی صورت میں ہوتا ہے۔ اس کا دوسرا حصہ وہ ہے جو شاخوں کی صورت میں ہوتا ہے۔ ہر کسان یہ جانتا ہے کہ کھاد اور پانی دینے کا کام اسے جڑ میں کرنا ہے، نہ کہ شاخوں میں۔ جڑ میں پانی دینا بالواسطہ طور پر شاخوں اور پتیوں میں بھی پانی دینا ہے۔ کیوں کہ پتیوں اور شاخوں کو جڑوں ہی سے طاقت ملتی ہے، نہ کہ خود پتیوں اور شاخوں سے۔ اسی طرح دین کی بھی ایک جڑ ہے، اور ایک اس کی شاخیں ہیں۔ دین کا باغ اگانے کے لیے بھی اس کی جڑوں میں طاقت پہنچانا چاہیے۔ شاخوں پر عمل کرنے سے دین کا ہرا بھراباغ کھڑا نہیں ہوسکتا۔ اسی حقیقت کو حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: أَلَا وَإِنَّ فِي الْجَسَدِ مُضْغَةً إِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الْجَسَدُ كُلُّهُ، وَإِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ كُلُّهُ، أَلَا وَهِيَ الْقَلْبُ ۔ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 52؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر 1599) یعنی، سن لو، بے شک جسم کے اندر گوشت کا ایک ٹکڑا ہے۔ جب وہ درست ہو تو پورا جسم درست ہو جاتا ہے۔ اور اگر وہ بگڑ جائے تو پورا جسم بگڑ جاتا ہے۔ سن لو، بے شک وہ قلب ہے۔ ”قلب“ اور ”جسم“ دو برابر درجے کی چیزیں نہیں ہیں۔ بلکہ ان میں اصل اور فرع کی نسبت ہے۔ قلب گویا جڑ کی مانند ہے اور جسم شاخ کی مانند۔ اگر ہم جسم کی درستگی چاہتے ہوں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page