Urdu book · راہِ عمل

راہِ عمل

Urdu book, p. 99

By Maulana Wahiduddin Khan

مقابلے میں انہیں یقینی طور پر فتح و غلبہ حاصل ہو۔ ایمانی حوصلہ خدائی صراطِ مستقیم جو پیغمبر کے ذریعے کھولی گئی ہے، اس کا پہلا اور بنیادی جزء ایمان باللہ ہے۔ اللہ پر ایمان کسی قسم کے تلفظِ کلمہ کا نام نہیں، یہ ایک عظیم ترین حقیقت پر گہرے یقین کا نام ہے جو آدمی کے اندر زبردست ذہنی انقلاب پیدا کر دیتا ہے۔ خدا اس کائنات کی سب سے بڑی حقیقت ہے۔ وہ لامحدود علم اور لامحدود طاقت والا ہے۔ وہ ہر قسم کے صفاتِ کمال کا ابدی خزانہ ہے۔ ایسے خدا پر ایمان لانا گویا طاقتور ترین ہستی کو اپنی حمایت پر کھڑا کر لینا ہے۔ یہ احساس آدمی کو ایسا برتر حوصلہ دیتا ہے جو کبھی مایوسی کا شکار نہ ہو، جو کبھی زیر ہونے پر راضی نہ ہو سکے۔ جو نازک ترین لمحات میں بھی ہمت اور عزم کو نہ کھوئے۔ ایمان آدمی کو کیسا اٹھا حوصلہ دیتا ہے، اس کا ایک اعلیٰ نمونہ پیغمبرِ اسلام کا وہ واقعہ ہے جو غارِ ثور میں پیش آیا۔ مکہ والے اسلام کے دشمن ہو گئے۔ حتیٰ کہ انہوں نے آپ کے قتل کا منصوبہ بنایا۔ اس وقت آپ خاموشی کے ساتھ مکہ سے نکل کر مدینہ کے لیے روانہ ہو گئے۔ اہلِ مکہ کو جب معلوم ہوا تو وہ راستوں کی طرف دوڑے ۔ یہاں تک کہ کچھ لوگ غار ثور کے منہ تک پہنچ گئے۔ اس وقت آپ کے ساتھی حضرت ابوبکر کی زبان سے نکلا کہ وہ تو یہاں بھی آگئے ۔ آپ نے نہایت پرسکون لہجے میں فرمایا: يَا أَبَا بَكْرٍ مَا ظَنُّكَ بِاثْنَيْنِ اللَّهُ ثَالِثُهُمَا۔ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2381) یعنی، اے ابوبکر، ان دو کے بارے میں تمہارا کیا گمان ہے جن کا تیسرا اللہ ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ کلمہ بلاشبہ انسانی حوصلے کی اعلیٰ ترین مثال ہے۔ اور یہ اعلیٰ مثال تاریخ انسانی میں جس چیز نے قائم کی، وہ ایمان باللہ تھا۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ ایمان

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page