راہِ عمل
Urdu book, p. 98
By Maulana Wahiduddin Khan
“The Islamic peoples have rediscovered their pride in their religion and their great culture.” موجودہ زمانے کی مسلم بیداری کے لیے یہ صحیح ترین لفظ ہے۔ انہوں نے اسلام کو بطور فخر دریافت کیا ہے ، نہ کہ بطور ہدایت۔ موجودہ زمانے میں مسلمانوں نے تقریروں ، تحریروں اور دوسری صورتوں میں جو ” اسلامی سرگرمیاں “ دکھائی ہیں ، وہ تقریباً یہ سب کی سب فخر(pride) کے جذبے کے تحت ابھری ہیں ، وہ اتباع کے جذبے کے تحت نہیں ابھریں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام کے نام پر ان کی تمام سرگرمیاں محض نمائش دھوم بن کر رہ گئیں ، وہ ان کے حال کو بدلنے کے معاملے میں مؤثر ثابت نہ ہوسکیں۔ کیوں کہ اسلام کی برکتیں اسلام پر عمل کرنے سے ظاہر ہوں گی ، نہ کہ اسلام پر فخر و ناز کرنے سے۔ صراط مستقیم قرآن کی سورہ نمبر 48 معاہدہ حدیبیہ کے فورا بعد اتری ۔ اس سورہ کا نام الفتح ہے اور اس کی ابتدائی تین آیتیں یہ ہیں : اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِيْنًا ۙ لِّیَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ وَیُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَیْكَ وَیَهْدِیَكَ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًا (48:1-2) یعنی ، بے شک ہم نے تم کو کھلی فتح دے دی ۔ تا کہ اللہ تمہاری اگلی اور پچھلی خطائیں معاف کر دے ۔ اور تمہارے اوپر اپنی نعمت کی تکمیل کرے ، اور تم کو سیدھا راستہ دکھائے ، اور تم کو زبردست مدد عطا کرے ۔ قرآن کی ان آیتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کے ذریعے ہماری رہنمائی ایک ایسی صراط مستقیم کی طرف کی ہے جس میں نہ صرف نجات اور مغفرت کی بشارت ہے۔ بلکہ موجودہ دنیا میں بھی یہ صراط مستقیم اس بات کی ضامن ہے کہ اگر اہل ایمان اس کو پوری طرح اختیار کر لیں تو وہ خدا کی نصرت خاص کے مستحق قرار پائیں اور دوسروں کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader