ایمانی حوصلہ
Urdu book, p. 100
By Maulana Wahiduddin Khan
باللہ میں کس طرح یہ عظیم طاقت ہے کہ وہ نازک ترین لمحات میں بھی انسان کو بے حوصله ہونے سے بچائے۔ وہ آخری حد تک اس کو عزم وہمت کے بلند معیار پر قائم رکھے۔ قدیم عرب کی تاریخ کا ایک سال وہ ہے جو عام الفیل (571ء) کے نام سے مشہور ہے۔ یہ وہ سال ہے جب کہ یمن کا عیسائی حکمران ابرہہ 60 ہزار آدمیوں کا لشکر اور ایک درجن ہاتھی لے کر مکہ کی طرف بڑھتا تا کہ کعبہ کو ڈھا کر اسے ہمیشہ کے لیے ختم کر دے۔ اہل عرب کے لیے اس وقت ہاتھیوں کا تصور بڑا بھیانک تھا۔ چنانچہ ہاتھیوں کی فوج کی خبر سن کر مکہ کی اکثریت شہر چھوڑ کر پہاڑوں اور وادیوں میں جا کر چھپ گئی ان کو یہ بات ناقابلِ تصور معلوم ہوئی کہ وہ ایک ایسی فوج کا مقابلہ کریں جس میں ”متحرک چٹانیں‘‘ انسانوں کو کچلنے کے لیے آگے آگے چل رہی ہوں۔ اس واقعہ (571ء) کے ستر سال بعد 642ء میں انہیں عربوں کا مقابلہ ایرانیوں کے ساتھ پیش آیا۔ دریائے فرات کے کنارے ایرانیوں کا لشکر اس طرف صف آرا ہوا کہ ان کے آگے سو سے بھی زیادہ جنگی ہاتھی کالے دیو کی طرح کھڑے ہوئے تھے۔ ان ہاتھیوں کو دیکھ کر عربوں کے گھوڑے بدکنے لگے۔ اس وقت بہت سے عرب فوجی اپنے گھوڑوں کی پیٹھوں سے کود پڑے۔ انہوں نے اپنی تلوار کے ذریعے ہاتھیوں پر حملہ کر دیا اور ان کی سونڈیں کاٹ ڈالیں۔ اس کے بعد ہاتھیوں کی صفیں ٹوٹ گئیں۔ وہ چیختے ہوئے پیچھے پیچھے کی طرف بھاگے۔ اور خود ایرانی فوجیوں کو اپنے بھاری قدموں کے نیچے روند ڈالا۔ 571ء کے عرب اور 642ء کے عرب کے درمیان یہ فرق کیسے پیدا ہوا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ عظیم فرق ایمان باللہ کی طاقت نے پیدا کیا۔ 571ء کے عرب مشرکانہ عقیدہ میں جی رہے تھے۔ 642ء کے عربوں کو پیغمبر اسلام نے توحید کے عقیدہ پر کھڑا کر دیا تھا۔ یہی وہ چیز تھی جس نے پہلے انسان اور بعد کے انسان میں اتنا بڑا فرق پیدا کر دیا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader