Urdu book · راہِ عمل

فطرت سے مطابقت

Urdu book, p. 101

By Maulana Wahiduddin Khan

فطرت سے مطابقت قرآن میں اللہ تعالیٰ کا ایک قانون ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے کہ کتنی ہی چھوٹی جماعتیں اللہ کے حکم سے بڑی جماعتوں پر غالب آئی ہیں ، اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے: (2:249) كَمْ مِنْ فِئَةٍ قَلِيلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيرَةً بِإِذْنِ اللَّهِ وَاللَّهُ مَعَ الصَّابِرِينَ۔ اس آیت میں ”اذن“ کا لفظ آیا ہے۔ عربی میں اس کے معنی اجازت ہیں۔ آیت بتاتی ہے کہ چھوٹا گروہ بھی بڑے گروہ پر غالب آ سکتا ہے ، بشرطیکہ اس کو خدا کا اذن حاصل ہو جائے ۔ یہ اذنِ خدا وندی کس کو ملتا ہے ، اس کا جواب خود آیت کے اگلے حصے میں موجود ہے۔ وہ جواب یہ ہے کہ یہ اذن ان لوگوں کو ملتا ہے جو صبر کا ثبوت دیں۔ اس دنیا میں تمام واقعات فطرت کے قانون کے تحت پیش آتے ہیں۔ آدمی اگر اپنے حصے کی ذمہ داری کو انجام دیتا رہے ، اور جلد بازی کا شکار نہ ہو تو فطرت کا عمل اپنے وقت پر پورا ہوتا ہے اور اس کو کامیابی تک پہنچا دیتا ہے۔ لیکن اگر وہ صبر نہ کرے اور نتیجہ کو جلد دیکھنے کے لیے قبل از وقت کوئی کارروائی کر بیٹھے تو گویا اس نے خود اپنے ہاتھوں اپنے آپ کو نا کام بنالیا۔ ایک مثال اس معاملے کو بہت اچھی طرح واضح کرتی ہے۔ ایک شخص اپنے گھر کے اندر ایک درخت لگانا چاہتا تھا۔ اگر وہ بیج کو زمین میں ڈال کر دس سال تک انتظار کرتا تو وہ اپنے گھر میں ایک ہرا بھرا درخت دیکھنے کی خوشی حاصل کر سکتا تھا۔ مگر اس نے دس سال کا سفر ایک دن میں طے کرنا چاہا۔ چنانچہ اس نے باہر سے ایک بڑا درخت کھدوا یا اور اس کو لا کر اپنے گھر میں جما دیا ۔ چند دن کے بعد اس کا درخت سوکھ گیا۔ وہ اپنے گھر میں اداس بیٹھا ہوا تھا ، اتنے میں اس کا ایک دوست اس سے ملنے کے لیے آیا۔ دوست نے اپنے ساتھی کو اداس دیکھ کر پوچھا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page