فطرت سے مطابقت
Urdu book, p. 102
By Maulana Wahiduddin Khan
کہ کیا بات ہے، آج تم اداس دکھائی دے رہے ہو۔ آدمی نے جواب دیا کہ بات یہ ہے کہ میں جلدی میں ہوں مگر خدا جلدی نہیں چاہتا: “I am in hurry, but God isn’t.” درخت کے لیے خدا کا اذن یہ ہے کہ پہلے ایک زرخیز زمین فراہم کی جائے۔ اس کو تیار کر کے اس میں بیج ڈالا جائے۔ پھر نشوونما کی مقررہ مدت تک اس کا انتظار کیا جائے۔ (الاعراف، 7:58) اس اذن خداوندی سے موافقت کے بغیر کوئی شخص درخت کا مالک نہیں بن سکتا۔ مذکورہ شخص کی غلطی یہ تھی کہ اس نے درخت کے معاملے میں خدا کے اذن کا لحاظ نہ کیا، اس لیے وہ درخت بھی حاصل نہ کر سکا۔ اسی طرح زندگی کے معاملے میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے صبر کا اصول مقرر کیا ہے۔ آدمی اگر چاہتا ہے کہ وہ حقیقی کامیابی حاصل کرے تو اس کو چاہیے کہ وہ اپنے دائرے اور امکان کے اعتبار سے اپنے عمل کا آغاز کرے اور بحیثیت انسان کے اس کی جو ذمہ داریاں ہیں، ان کو ادا کرنے میں لگ جائے۔ جب وہ ایسا کرے گا تو اس کے فوراً بعد فطرت کے اسباب بھی اس کے حق میں جمع ہونا شروع ہو جائیں گے۔ اب اگر اس نے اسباب فطرت کی تکمیل سے پہلے کوئی اقدام کر دیا تو وہ ناکام رہے گا، اور اگر اس نے اس وقت تک انتظار کیا جب کہ فطرت کے اسباب اس کے حق میں جمع ہو جائیں تو وہ کامیاب رہے گا۔ یہی وہ بات ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرتے ہوئے قرآن میں اس طرح کہی گئی ہے کہ (اپنے دعوتی عمل کو جاری رکھتے ہوئے تم نتیجے کے بارے میں) صبر کرو جس طرح ہمت والے پیغمبروں نے صبر کیا اور ان کے لیے جلدی نہ کرو۔ فَاصْبِرُ كَمَا صَبَرَ أُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ وَلَا تَسْتَعْجِلْ لَهُمْ۔ (46:35) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اس کی ایک مثال مکی دور اور مدنی دور کا معاملہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader