فطرت سے مطابقت
Urdu book, p. 103
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے ۔ کی دور میں مسلمانوں پر ظلم ہور ہا تھا ۔ اور ان کوستایا جار ہا تھا۔ مگر مسلمانوں کے مطالبے کے با وجود انہیں ظالموں کے مقابلے میں دفاع کی اجازت نہیں دی گئی ۔ انہیں یہ حکم دیا گیا کہ تم یک طرفہ صبر کرتے رہو ۔ (یونس ، 10:109) البتہ مدینہ پہنچنے کے بعد انہیں اجازت دے دی گئی کہ وہ ظالموں کے مقابلے میں دفاع کر سکتے ہیں ۔ (الحج ، 22:39) اس کی وجہ یہ تھی کہ مکہ میں ابھی عمل دعوت اس تکمیلی حد کو نہیں پہنچا تھا جس کو اتمام حجت کہا جاتا ہے۔ اس بنا پر ایسا نہیں ہوا تھا کہ مخالف گروہ کے تمام صالح افراد کٹ کر نکل آئیں اور اس کے غیر صالح عناصر اپنے انکار پر مصر رہنے کی بنا پر خدا کی پکڑ کے مستحق بن جائیں۔ جب یہ دعوتی حد آخری طور پر پوری ہوگئی اور اتمام حجت کے با وجود انکار کے نتیجے میں اہل کفر خدا کی پکڑ کے مستحق قرار پا گئے، اس وقت ان سے ٹکرانے کی اجازت دے دی گئی ۔ اس معاملے کی ایک مثال وہ ہے جو ہندوستان میں صوفیوں اور لیڈروں کے تقابل سے سامنے آتی ہے۔ ہندوستان کے مسلم معاشرے میں ، 1947 سے پہلے ، صوفیوں کا غلبہ تھا ، 1947 کے بعد یہاں کا مسلم معاشرہ پر لیڈروں کا غلبہ ہے۔ دونوں زمانوں کا مطالعہ کیجئے تو ان میں ایک بے حد نمایاں فرق نظر آئے گا۔ پچھلے دور میں لاکھوں کی تعداد میں ہندوؤں نے اسلام قبول کیا۔ موجودہ دور میں صورت حال اس کے برعکس ہے۔ اشاعت اسلام کا عمل جو پچھلے دور میں پورے تسلسل کے ساتھ جاری تھا ، وہ اب ہر طرف رکا ہوا نظر آتا ہے۔ اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ موجودہ لیڈر اسلام کی تبلیغ نہیں کرتے ، اور صوفیاء اسلام کی تبلیغ کرتے تھے۔ اس کا کوئی ثبوت نہیں کہ صوفیاء نے یہاں تبلیغ کا باقاعدہ عمل کیا ہو۔ صوفیاء کا اصل کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے فطرت کو اپنا کام کرنے کا موقع دیا ، جب کہ موجودہ لیڈر فطرت کو اپنا کام کرنے کا موقع نہیں دے رہے ہیں ۔ صوفیاء کا دین محبت تھا۔ ان کی کوشش یہ ہوتی تھی کہ مختلف فرقوں کے درمیان اچھے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader