Urdu book · راہِ عمل

راہِ عمل

Urdu book, p. 104

By Maulana Wahiduddin Khan

تعلقات قائم کریں۔ اس طرح وہ انسان کو موقع دیتے تھے کہ وہ اپنے فطری راستے پر بے روک ٹوک آگے بڑھ سکے ۔ اب چونکہ اسلام اور انسانی فطرت دونوں ایک ہیں ، اس لیے فطرت کا سفر ہمیشہ اسلام کی منزل پر ختم ہوتا تھا۔ لوگ اپنے آپ اسلام کی طرف راغب ہوتے اور پھر صوفیاء کے ہاتھ پر اسلام قبول کر لینے۔ اس طرح کسی براہ راست تبلیغ کے بغیر اسلام فطرت کے زور پر اپنے آپ پھیلتا جا رہا تھا۔ موجودہ مسلم لیڈروں کا معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے ۔ وہ نفرت اور رقابت کے دین پر کھڑے ہوئے ہیں ۔ انہوں نے حکومت ( یا ہندو) کے خلاف کچھ نزاعی اشو اٹھارکھے ہیں اور ان کے نام پر منفی دھوم مچاتے رہتے ہیں ۔ ان کی یہ سرگرمیاں دونوں فرقوں میں نفرت اور تعصب کی آگ بھڑکا کر دونوں کو ایک دوسرے سے دور کر رہی ہیں ۔ یہی نفرت اور تعصب کا ماحول ہے جس نے موجودہ زمانے میں فطرت کو اپنا عمل کرنے سے روک دیا ہے۔ اسلام کا سیلاب جو صوفیاء کے زمانے میں روانی کے ساتھ جاری تھا ، وہ موجودہ ہندوستان میں ہر طرف رکا ہوا نظر آتا ہے۔ انقلابی زاویہ نظر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے زندگی کے بارے میں جو نقطہ نظر دیا ، وہ ایسا نقطہ نظر ہے جو آدمی کو سراپا عمل بنا دیتا ہے ۔ وہ آدمی کی صلاحیتوں کو جگا کر اس کو حالات کے مقابلے میں ناقابل تسخیر بنا کر کھڑا کر دیتا ہے۔ قرآن میں ایک سے زیادہ مقام پر بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب آدم کو (اور ان کی ذریت کو) زمین پر آباد کیا تو ان سے فرمایا کہ تم لوگ زمین پر بسو ، اور تم لوگ ایک دوسرے کے دشمن ہوگے : قَالَ اہْبِطُوا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ ؕ ( 7:24 ) اس کا مطلب کیا ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں انسان درختوں اور پتھروں کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page