Urdu book · راہِ عمل

انقلابی زاویۂ نظر

Urdu book, p. 105

By Maulana Wahiduddin Khan

مانند نہیں رہے گا۔ بلکہ وہ متحرک اور متصادم مخلوق کی مانند رہے گا۔ یہاں انسانوں کے باہمی تعلقات مسابقت (competition) کی بنیاد پر قائم ہوں گے۔ یہاں ایک انسان اور دوسرے انسان، ایک گروہ اور دوسرے گروہ کے درمیان ٹکراؤ پیش آئے گا۔ اس کے نتیجے میں آخری طور پر یہاں تک نوبت پہنچے گی کہ آپس میں دشمنیاں قائم ہوں گی۔ اس نظام تخلیق کا پہلا مظاہرہ ہابیل اور قابیل کے خونی نزاع کی صورت میں پیش آیا، اور اب تک وہ مختلف شکلوں میں بنی آدم کے درمیان جاری ہے۔ اس نظام تخلیق کا مطلب، دوسرے لفظوں میں، یہ ہے کہ دنیا میں آدمی کو چیلنج کے حالات میں رہنا ہوگا۔ اس دنیا میں کسی کو عمل کا بے ضرر اور ہموار میدان نہیں ملے گا۔ یہاں افراد اور قوموں کور کاوٹوں اور مخالفتوں ، حتیٰ کہ دشمنیوں کے درمیان زندگی کا سفر طے کرنا پڑے گا۔ گویا دنیا کی زندگی آدمی کے فکر و عمل کا امتحان ہوگی۔ جو شخص خدا کی دی ہوئی صلاحیتوں کو صحیح طور پر استعمال کرے گا، وہ کامیاب ہوگا۔ اور جو لوگ خدا کی دی ہوئی صلاحیتوں کو صحیح طور پر استعمال نہ کرسکیں، وہ اس دنیا میں کامیابی کو بھی حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہوں گے۔ اس سے معلوم ہوا کہ انسانی دنیا میں خدا نے مقابلہ اور مسابقت کا وہی نظام قائم کیا ہے جو حیوانات کے درمیان بڑے پیمانے پر رائج ہے۔ حیوانات کی دنیا میں یہ نظام ہے کہ ہرن کے پیچھے بھیڑیا دوڑ رہا ہے۔ اگر بھیڑیا اس طرح نہ دوڑے تو ہرن اپنے جوہر حیات کو کھودے گا۔ یہاں بڑی مچھلی چھوٹی مچھلی کا پیچھا کر رہی ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو مچھلیوں کی نشوونما کا عمل رک جائے ۔ اسی طرح انسانی زندگی میں بھی تمام ترقیاں مقابلہ اور مسابقت کے ساتھ وابستہ ہیں۔ اگر زندگی میں مقابلہ اور مسابقت کا ماحول باقی نہ رہے تو ہر قسم کی ترقیوں کا بھی خاتمہ ہوجائے۔ سیرت کی روایتوں میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے بعد مکہ سے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page