انقلابی زاویۂ نظر
Urdu book, p. 106
By Maulana Wahiduddin Khan
طائف کا سفر فرمایا۔ درمیان میں ایک راستہ ملا جو بظاہر تنگ اور دشوار تھا۔ آپ نے پوچھا کہ اس راستے کا نام کیا ہے۔ لوگوں نے کہا کہ الضِّیْقَةُ (تنگ) آپ نے فرمایا کہ نہیں، وہ آسان ہے: بَلْ ھِيَ الْيُسْرٰی۔ (سیرت ابن ہشام، جلد 4، صفحہ 127) مذکورہ راستہ بطور واقعہ تنگ تھا۔ مگر اس کے باوجود آپ نے اس کو آسان راستہ قرار دیا۔ اس طرح آپ نے بتایا کہ زندگی ایک امتحان ہے۔ یہاں بہر حال تنگی اور دشواری پیش آئے گی۔ تمہارا کام یہ نہیں ہے کہ دشواری کو دشواری کہہ کر اپنے آپ کو بے حوصلہ کر لو، یا اس کے خلاف فریاد و احتجاج کرنے لگو۔ تمہارا کام یہ ہے کہ تم تنگی کو کشادگی میں مُبَدَّل (convert) کرو۔ تم مشکل کو آسان بنا کر اس کے اوپر فتح حاصل کرو۔ تمہارا سوچنے کا طریقہ انقلابی ہونا چاہیے، نہ کہ احتجاجی۔ یہ وہی چیز ہے جس کو موجودہ زمانے کے بعض مفکرین نے مسئلے کا برتر حل (superior solution) کا نام دیا ہے۔ پیغمبر اسلام کی پوری زندگی اسی برتر تدبیر کی اعلیٰ مثال ہے۔ آپ کو عرب میں سخت ترین مشکلوں سے سابقہ پیش آیا۔ مگر آپ نے ان مشکلوں کو چیلنج کے روپ میں دیکھا۔ آپ نے دشواریوں کو اپنے لیے زینہ بنا کر ان کے اوپر فتح حاصل کی۔ مکہ کے اہل شرک نے آپ کے لیے اور آپ کے اصحاب کے لیے مکہ میں رہنا مشکل بنا دیا۔ آپ نے اس ناموافق صورت حال کو اپنے لیے موافق صورت حال میں تبدیل کر لیا۔ ایک طرف آپ نے اپنے سو سے کچھ اوپر اصحاب کو، جو سب کے سب داعیانہ جذبہ رکھتے تھے، سمندر پار حبش کے ملک میں بھیج دیا۔ اس طرح آپ کی دعوت ایشیا سے نکل کر افریقہ میں داخل ہوگئی۔ ایک دعوت جو ابھی تک صرف مقامی حیثیت رکھتی تھی، وہ بین اقوامی دعوت کی صورت اختیار کر گئی۔ دوسری طرف آپ نے اپنے کچھ ساتھیوں کو مدینہ (یثرب) روانہ کیا۔ وہاں دعوت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader