Urdu book · راہِ عمل

راہِ عمل

Urdu book, p. 107

By Maulana Wahiduddin Khan

کے ذریعے لوگ بڑی تعداد میں اسلام میں داخل ہو گئے۔ اس کے بعد آپ خود بھی مکہ سے نکل کر مدینہ چلے گئے اور مدینہ کو مرکز بنا کر اپنا دعوتی کام مزید شدت کے ساتھ جاری کر دیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اولاً مدینہ اور اس کے بعد پورا ملک اسلام کے دائرہ میں داخل ہو گیا۔ موجود زمانے میں تاریخ کے وسیع تر مطالعہ نے اس نظریہ کے حق میں مزید تصدیق فراہم کی ہے۔ مثال کے طور پر آرنلڈ ٹوائن (1975-1889) نے انسانی تاریخ کی 21 تہذیبوں کا مطالعہ کیا ہے اور اس کو اپنی کتاب مطالعہ تاریخ (A Study of History) کی بارہ جلدوں میں تفصیل کے ساتھ پیش کیا ہے۔ ٹوائن ہی اس تاریخی مطالعہ سے اس نتیجہ پر پہنچا ہے کہ تمام بڑی بڑی تہذیبیں ان قوموں نے پیدا کیں جن کو خارجی دنیا کی طرف سے چیلنج پیش آیا۔ چیلنج نے ان کو متحرک کیا۔ اس نے ان کی چھپی ہوئی صلاحیتوں کو ابھارا۔ یہاں تک کہ مغلوب قومیں بالآخر غالب قومیں بن کر ابھر آئیں۔ اسلام کا یہ نظریہ انسان کے لیے بہت بڑی دین ہے۔ یہ نظریہ مایوس لوگوں کے لیے ہمت کا دروازہ کھولتا ہے۔ وہ شکایت کے مزاج کو ختم کر کے محنت کا مزاج پیدا کرتا ہے۔ وہ آدمی کے اندر یہ سوچ ابھارتا ہے کہ وہ حالات کے خلاف فریاد واحتجاج میں اپنا وقت ضائع نہ کرے۔ وہ حالات کا سامنا کر کے کامیابی اور فتح مندی کی منزل کی طرف رواں دواں ہو جائے۔ نفسِ امّارہ، نفسِ لُوّامہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم خدا کی طرف سے جو کتاب لائے، اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ انسان کے اندر پیدائشی طور پر دو قسم کی صلاحیتیں موجود ہیں۔ ایک صلاحیت کو قرآن میں نفس امّارہ (یوسف، 12:53) کہا گیا ہے، اور دوسری صلاحیت کو نفس لُوّامہ (القیامہ، 75:2) ۔ نفس امّارہ سے وہی چیز مراد ہے جس کو انانیت (egoism) کہا جاتا ہے۔ اور

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page