Urdu book · راہِ عمل

نفس امارہ، نفس لوامہ

Urdu book, p. 108

By Maulana Wahiduddin Khan

نفسِ لوّامہ سے مراد وہ چیز ہے جس کا نام نفسیاتی اصطلاح میں ضمیر (conscience) ہے۔ نفسِ امّارہ کی صفت سرکشی، ظلم اور فساد انگیزی ہے۔ اس کے برعکس، نفسِ لوّامہ کی صفت اعتراف، تواضع اور انصاف پسندی ہے۔ آدمی کے نفسِ امّارہ کا جاگنا گناہ ہے، اور اس کے نفسِ لوّامہ کا جاگنا انصاف کا جاگنا ہے۔ یہ دونوں صلاحیتیں ہر آدمی کے اندر موجود ہیں۔ مگر ابتدائی حالت میں وہ سوئی ہوئی ہوتی ہیں۔ جب آپ کا کسی کے ساتھ معاملہ پیش آئے تو آپ کے لیے دو میں سے ایک کے انتخاب کا موقع ہوتا ہے۔ آپ چاہیں تو نفسِ امّارہ کو اپنا حصہ دار بنائیں، اور چاہیں تو نفسِ لوّامہ کو اپنے حصہ میں لیں جو گویا فریقِ ثانی کے اندر آپ کا ایک موافق وکیل ہے۔ اس معاملے کا انحصار اس پر ہے کہ فریقِ ثانی کے اندر چھپی ہوئی صلاحیتوں میں سے کس صلاحیت کو آپ نے جگایا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ فریقِ ثانی کے اندر آپ کا ایک دشمن انسان چھپا ہوا ہے، اور اسی کے ساتھ آپ کا ایک دوست انسان بھی۔ اب یہ آپ کا امتحان ہے کہ آپ دونوں میں سے کس انسان کو جگاتے ہیں۔ آپ جس انسان کو جگائیں گے، وہی انسان آپ کے حصے میں آئے گا۔ سب سے زیادہ برا شخص وہ ہے جس کے لیے موقع تھا کہ وہ فریقِ ثانی کے اندر چھپے ہوۓ اپنے موافق انسان کو جگاتا، مگر اس نے اپنی نادانی سے فریقِ ثانی کے اندر چھپے ہوۓ اپنے دشمن انسان کو جگا دیا۔ یہی وہ بدبخت انسان ہے جس کے بارے میں حدیث میں آیا ہے کہ: إِنَّ الْفِتْنَةَ نَائِمَةٌ لَعَنَ اللَّهُ مَنْ أَيْقَظَهَا۔ (التدوين في اخبار قزوين للرافعی، جلد 1، صفحہ 291) یعنی، فتنہ سویا ہوا ہے، اس شخص پر خدا کی لعنت ہے جو اس کو جگائے۔ حدیث کی کتابوں میں ایک واقعہ آیا ہے۔ ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کی مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے جو مسجد نبوی کے مقدس نام سے مشہور ہے۔ ایک اعرابی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page