نفس امارہ، نفس لوامہ
Urdu book, p. 109
By Maulana Wahiduddin Khan
(مشرک) وہاں آیا اور مسجد کے ایک حصے میں پیشاب کرنے لگا۔ صحابہ کرام یہ دیکھ کر دوڑے کہ اس کو پکڑیں اور اس کی تنبیہ کریں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو منع کر دیا۔ آپ نے صحابہ سے فرمایا کہ تمہارا کام لوگوں کو آسانی دینا ہے۔ تمہارا کام لوگوں کو مشکل میں ڈالنا نہیں ہے۔ اس کے بعد آپ نے فرمایا کہ جس مقام پر اعرابی نے پیشاب کیا ہے، وہاں ایک بالٹی پانی بہادو، وہ جگہ پاک ہو جائے گی۔ اعرابی کو آپ نے یہ کہہ کر چھوڑ دیا کہ یہ گھر خدا کی عبادت کے لیے ہے، یہ بول و براز کے لیے نہیں۔ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 285) اگر آپ اس اعرابی کو پکڑتے اور مارتے تو اس کا نفسِ امّارہ جاگ اٹھتا۔ وہ مدینہ سے لوٹ کر جاتا تو آپ کے خلاف سازشیں کرتا اور ہر طرف لوگوں سے آپ کی برائی بیان کرتا۔ مگر جب آپ نے اس کے ساتھ مذکورہ قسم کا شریفانہ برتاؤ کیا تو اس کا نفس لوّامہ جاگ اٹھا۔ اب اس کو اپنے آپ پر شرم آنے لگی۔ اس کا دل بار بار اس سے کہنے لگا کہ میں کتنا برا ہوں اور محمدؐ میرے مقابلے میں کتنے اچھے ہیں۔ یہ اعرابی واپس ہو کر اپنے قبیلے میں گیا تو وہ اندر سے ایک بدلا ہوا انسان تھا۔ وہ اپنے قبیلے والوں سے کہتا پھرتا تھا کہ میں مدینہ گیا اور وہاں میں نے محمدؐ کے عبادت خانے کو گندہ کر دیا۔ مگر خدا کی قسم، محمدؐ نے نہ مجھ پر غصہ کیا، اور نہ محمدؐ نے مجھ کو جھڑک کا: وَاللَّهِ مَا قَهَرَنِي مُحَمَّدٌ، وَاللَّهِ مَا زَبَرَنِي مُحَمَّدٌ۔ (مسند ابن أبي شيبة، حدیث نمبر 825) اولاً مذکورہ اعرابی کا نفس لوّامہ جاگا تھا، مگر اس کی تقریروں سے قبیلے کے تمام افراد کی انسانیت جاگ اٹھی۔ چنانچہ اس اعرابی نے اور اس کے پورے قبیلے نے اسلام قبول کر لیا۔ وہ پیغمبرِ اسلام کی جماعت میں اضافہ کر کے آپ کی مزید طاقت کا ذریعہ بن گئے۔ اب اس واقعے کا موجودہ زمانے کی صورت حال سے تقابل کیجیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انسان کی غلطی پر ایک بالٹی پانی بہایا تھا اور اس کے بعد ایک پورا قبیلہ اس سے متاثر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader