Urdu book · راہِ عمل

راہِ عمل

Urdu book, p. 11

By Maulana Wahiduddin Khan

بندی کا حکم جاری کیا تو حکم جاری ہونے کے ساتھ ہی شراب نوشی کا بھی خاتمہ ہوگیا۔ اس کے برعکس، موجودہ زمانے میں پاکستان اور سوڈان جیسے ملکوں میں وہاں کے حکمرانوں نے شراب بندی کا حکم جاری کیا مگر عملاً صرف یہ ہوا کہ جو شراب پہلے اوپن مارکیٹ میں بکتی تھی وہ اب بلیک مارکیٹ میں فروخت ہونے لگی۔ اس فرق کا سبب یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے زمین تیار کی اور اس کے بعد شراب کی حرمت کا اعلان فرمایا۔ جب کہ موجودہ زمانہ کے مسلم حکمران زمین تیار کیے بغیر حرمت شراب کا قانون جاری کرنا چاہتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریق کار کی وضاحت کے لیے یہاں ہم حضرت عائشہ کی ایک روایت نقل کرتے ہیں: إِنَّمَا نُزِلَ أَوَّلَ مَا نَزَلَ مِنْهُ سُورَةٌ مِنَ الْمُفَصَّلِ، فِيهَا ذِكْرُ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ، حَتَّى إِذَا ثَابَ النَّاسُ إِلَى الْإِسْلَامِ نَزَلَ الْحَلَالُ وَالْحَرَامُ، وَلَوْ نَزَلَ أَوَّلَ شَيْءٍ: لَا تَشْرَبُوا الْخَمْرَ، لَقَالُوا: لَا نَدَعُ الْخَمْرَ أَبَدًا، وَلَوْ نَزَلَ: لَا تَزْنُوا، لَقَالُوا: لَا نَدَعُ الزِّنَا أَبَدًا۔ (صحيح البخاری، حدیث نمبر، 4993) یعنی، قرآن میں ابتداء وہ سورتیں اتاری گئیں جن میں جنت اور جہنم کا تذکرہ تھا۔ یہاں تک کہ جب لوگ اسلام کی طرف مائل ہو گئے اس وقت حلال اور حرام کا حکم اتارا گیا۔ اور اگر شروع ہی میں یہ حکم آ جاتا کہ شراب نہ پیو تو یقیناً لوگ کہتے کہ ہم کبھی شراب نہ چھوڑیں گے ۔ اور اگر شروع ہی میں یہ اترتا کہ زنا نہ کرو تو یقیناً لوگ کہتے کہ ہم کبھی زنا نہ چھوڑیں گے۔ موجودہ زمانے میں جن مسلم ملکوں میں شراب اور فواحش کو ختم کرنے کی کوششیں کی گئیں وہ اسی دوسری قسم میں آتے ہیں جس کا ذکر حضرت عائشہ نے اپنی حدیث کے آخر میں کیا ہے۔ دعوت کے بجائے تحفظ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page