Urdu book · راہِ عمل

نفس امارہ، نفس لوامہ

Urdu book, p. 110

By Maulana Wahiduddin Khan

ہو کر اسلام میں داخل ہوگیا۔ موجودہ زمانے میں لوگ اس قسم کی غلطیاں کرتے ہیں تو مسلمان ان سے لڑ پڑتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں مسلمانوں اور غیرمسلموں کے درمیان ٹکراؤ ہوتا ہے اور ہزاروں بالٹی خون سڑکوں پر بہا دیا جاتا ہے۔ مگر خون کی ان ہزاروں بالٹیوں نے مسلمانوں کے دشمنوں میں سے کسی ایک دشمن کو بھی اسلام کی رحمتوں کے سائے میں داخل نہیں کیا۔ دونوں کے درمیان اس غیرمعمولی فرق کی وجہ کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ محبت کا پانی تھا، اور یہ نفرت کا خون ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کی غلطیوں پر محبت کا پانی بہایا تھا، موجودہ مسلمان لوگوں کی غلطیوں پر نفرت کا خون بہارہے ہیں۔ اور ظاہر ہے کہ محبت اور نفرت دونوں کا انجام یکساں نہیں ہوسکتا۔ محبت کے پانی کی ایک بالٹی بھی دلوں کو بدل دینے کے لیے کافی ہے۔ مگر نفرت کے خون کی لاکھوں بالٹیاں بھی انڈیل دی جائیں تو وہ لوگوں کے دلوں کو پھیرنے والی نہیں بنیں گی۔ مزید وضاحت کے لیے یہاں ایک اور واقعہ درج کیا جاتا ہے۔ 1968 میں ایک مسلمان تاجر نے یوپی کے ایک شہر میں اپنا گھر بنایا۔ اس کے قریب ایک ہندو ٹھیکیدار کا گھر تھا۔ دونوں گھروں کے درمیان ایک غیر ہموار خالی زمین تھی۔ مسلمان کا خیال تھا کہ یہ میری زمین ہے، انہوں نے چاہا کہ اس کو ہموار کریں اور اس کی گھیرابندی کرکے اس کو اپنے مکان میں شامل کرلیں۔ ہندو ٹھیکیدار کو اس پر اعتراض ہوا۔ اس نے کہا کہ یہ میری زمین ہے۔ آپ کا اس پر کوئی حق نہیں۔ خلاصہ یہ کہ ہندو ٹھیکیدار نے شہر فرقہ پرست ہندوؤں کو اکسایا۔ یہاں تک کہ ایک روز ہندوؤں کا غصہ میں بھرا ہوا ایک ہجوم مسلمان کے گھر کے سامنے کی سڑک پر جمع ہوگیا۔ وہ اشتعال انگیز نعرے لگا رہا تھا۔ مسلمان کے پاس بندوق موجود تھی، مگر اس نے بندوق استعمال نہیں کی۔ وہ خالی ہاتھ باہر نکلا، مجمع کا اندازہ کرنے کے بعد اس نے کہا کہ آپ میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page