Urdu book · راہِ عمل

نفس امارہ، نفس لوامہ

Urdu book, p. 111

By Maulana Wahiduddin Khan

لیڈر کون ہے۔ ایک شخص (مسٹر سونڈ) آگے بڑھے۔ مسلمان نے مجمع سے کہا کہ آپ لوگ یہاں ٹھہریئے ۔ اور سونڈ کو لے کر اندر اپنے دفتر میں گیا۔ وہاں ان کو بٹھا کر ان سے بات چیت شروع کی۔ مسلمان نے پوچھا کہ آپ حضرات نے کیوں زحمت فرمائی۔ مسٹر سونڈ نے نہایت روکھے انداز میں جواب دیا کہ آپ نے ہمارے بھائی کی زمین پر قبضہ کر لیا ہے، اس لیے ہم یہاں آئے ہیں۔ مسلمان نے کہا کہ ٹھیک ہے۔ دیکھیے زمین کا غذ پر ہوتی ہے۔ یعنی زمین کا فیصلہ کاغذی نقشہ اور دستاویزات کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ اب آپ ایسا کریں کہ زمین سے متعلق جو کاغذات میرے پاس ہیں وہ مجھ سے لے لیں، اور جو کاغذات ٹھیکیدار صاحب کے پاس ہیں، وہ ان سے لے لیں۔ اس کے بعد آپ نہایت اطمینان کے ساتھ اپنے گھر چلے جائیں۔ دونوں کے کاغذات کو دیکھ کر آپ جو فیصلہ کر دیں گے وہی مجھے منظور ہے۔ یہ سنتے ہی مسٹر سونڈ کا انداز بدل گیا۔ وہ ہنستے ہوئے باہر نکلے اور اپنے آدمیوں سے کہا کہ آپ لوگ اپنے گھروں کو واپس جائیں۔ میاں صاحب نے خود ہم کو اس معاملے میں حج بنا دیا ہے۔ ہم معاملے کی جانچ کرنے کے بعد اس کا فیصلہ کریں گے۔ مسٹر سونڈ اور ان کے ساتھیوں نے چند دن کا غذات کی جانچ کی۔ اس کے بعد انہوں نے مکمل طور پر مسلمان کے حق میں اپنا فیصلہ دے دیا۔ مذکورہ مسلمان اگر اپنی بندوق نکالتا اور ہندوؤں سے لڑائی کرتا تو وہ ان کی نفس امارہ کو جگاتا۔ ایسی حالت میں فریق ثانی کا صرف "دشمن انسان" اس کے حصے میں آتا۔ مگر جب اس نے شرافت اور اخلاق والا انداز اختیار کیا تو اس نے فریق ثانی کے اندر چھپے ہوئے اپنے "دوست انسان" کو جگا دیا۔ اس کے بعد ہی موافق انجام ہو سکتا تھا جس کا اوپر ذکر ہوا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page