Urdu book · راہِ عمل

برائی کے بدلے بھلائی

Urdu book, p. 112

By Maulana Wahiduddin Khan

برائی کے بدلے بھلائی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن میں انسانوں کو مسخر کرنے کی جو تدبیر بتائی گئی، وہ خلقِ عظیم (68:4) ہے۔ یعنی برابر کا اخلاق نہیں، بلکہ برتر اخلاق۔ یہ اخلاق کی وہ قسم ہے جب کہ آدمی رد عمل سے اوپر اٹھ کر لوگوں کے ساتھ حسنِ اخلاق کا معاملہ کرتا ہے۔ چنانچہ حکم دیا گیا کہ لوگ تمہارے ساتھ برا کریں تب بھی تم ان کے ساتھ اچھا کرو۔ تم برے سلوک کے جواب میں بھی اچھے سلوک پر قائم رہو۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں ہو سکتے۔ تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو۔ پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی، وہ ایسا ہو گیا جیسے کوئی دوست قرابت والا۔ اور یہ بات اسی کو ملتی ہے جو صبر کرنے والے ہیں، اور یہ بات اسی کو ملتی ہے جو بڑا نصیبہ والا ہے۔ (35-41:34) اس آیت کی تشریح حضرت عبداللہ ابن عباس نے اس طرح کی ہے کہ اللہ نے اہل ایمان کو حکم دیا ہے کہ وہ غصہ کے وقت صبر کریں۔ وہ جہالت کے وقت بردباری اختیار کریں۔ وہ برائی کرنے والے کو معاف کر دیں۔ جب وہ ایسا کریں گے تو اللہ ان کو شیطان سے بچا لے گا اور ان کے دشمن کو ان کے لیے زیر کر دے گا، گویا کہ وہ ان کا قریبی دوست ہے: أَمَرَ اللهُ الْمُؤْمِنِينَ بِالصَّبْرِ عِنْدَ الْغَضَبِ، وَالْحِلْمِ عِنْدَ الْجَهْلِ، وَالْعَفْوِ عِنْدَ الْإِسَاءَةِ، فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ عَصَمَهُمُ اللَّهُ مِنَ الشَّيْطَانِ، وَخَضَعَ لَهُمْ عَدُوُّهُمْ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ۔ (تفسیر ابن کثیر، جلد 7، صفحہ 181) جس طرح آگ بجھانے کے لیے اللہ تعالیٰ کا قانون یہ ہے کہ اس کے اوپر پانی ڈالا جائے۔ آگ پر پٹرول ڈالنے سے آگ نہیں بجھتی۔ یہی معاملہ انسانی تعلقات کا ہے۔ انسانوں کے درمیان بھی برائی ختم کرنے کا اصول یہی ہے کہ برائی کو بھلائی کے ذریعہ ختم کیا جائے۔ فطرت کے قانون کے مطابق برائی کبھی برائی کے ذریعہ ختم نہیں کی جا سکتی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی اسی ربانی اصول کا عملی نمونہ ہے۔ مثلاً رسول

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page