Urdu book · راہِ عمل

برائی کے بدلے بھلائی

Urdu book, p. 113

By Maulana Wahiduddin Khan

اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار مدینہ کے ایک یہودی سے کچھ قرض لیا۔ اس کے بعد یہودی ایک روز آپ کے پاس آیا اور برے انداز میں قرض کی واپسی کا مطالبہ کرنے لگا۔ حتیٰ کہ اس نے یہ اشتعال انگیز جملہ بھی کہہ دیا کہ آلِ مطلب سب کے سب نادہند ہوتے ہیں۔ یہودی کی اس بدتمیزی پر صحابہ کو غصہ آگیا۔ انہوں نے اس کو مارنا چاہا۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا۔ آپ نے کہا کہ اس کو چھوڑ دو، کیوں کہ جس آدمی کا ہمارے اوپر بقایا ہو، اس کو کہنے سننے کا بھی حق ہے: دَعُوْہُ فَإِنَّ لِصَاحِبِ الْحَقِّ مَقَالًا۔ (صحیح ابن حبان، حدیث نمبر 793؛ مسند احمد، حدیث نمبر 9390) یہودی نے واضح طور پر بدسلوکی کا مظاہرہ کیا تھا۔ اس وقت اگر آپ ردِعمل کا انداز اختیار کرتے اور اس کی بدسلوکی کا جواب بدسلوکی سے دیتے تو اس کا غصہ اور بڑھ جاتا۔ اس کا نتیجہ صرف یہ نکلتا کہ قرض پر عناد کا اضافہ ہو جائے۔ مگر جب آپ نے اس کی بدسلوکی کا جواب اس طرح دیا کہ اس کے ساتھ اچھے سلوک کا مظاہرہ فرمایا تو وہ نہایت متاثر ہوا۔ اس کا دل آپ کے آگے جھک گیا۔ یہاں تک کہ اس نے اسلام قبول کر لیا۔ جو شخص اس سے پہلے اپنی دولت کے صرف ایک جزئی حصے کے بارے میں تاخیر ادائیگی پر راضی نہ تھا، اب اس کا یہ حال ہوا کہ اس نے اپنے آپ کو بھی اسلام کے حوالے کر دیا اور اپنے تمام اموال کو بھی۔ اس معاملے کی مزید وضاحت کے لیے یہاں آپ کا ایک اور واقعہ نقل کیا جاتا ہے۔ مکہ کے لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کے ساتھ نہایت برا سلوک کیا تھا۔ انہوں نے کسی سبب کے بغیر آپ کو ہر قسم کی اذیتیں پہنچائی تھیں۔ یہاں تک کہ آپ کو اپنا وطن مکہ چھوڑ کر مدینہ چلا جانا پڑا۔ وہ لوگ اس کے بعد بھی خاموش نہیں ہوئے۔ انہوں نے آپ کے خلاف خونی جنگیں چھیڑ دیں، جن کی تفصیل سیرت اور تاریخ کی کتابوں میں درج ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page