Urdu book · راہِ عمل

برائی کے بدلے بھلائی

Urdu book, p. 114

By Maulana Wahiduddin Khan

اس کے بعد وہ وقت آیا جب کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی مدد فرمائی اور مکہ فتح ہو گیا۔ اس وقت مکہ کے لوگ بیت اللہ میں آپ کے پاس لائے گئے۔ یہ لوگ ظالم بھی تھے اور جنگی مجرم بھی۔ عام رواج کے مطابق ان کا انجام یہ ہونا چاہیے تھا کہ ان سب کو قتل کر دیا جائے۔ چنانچہ وہ لوگ اسی انجام کے اندیشے کے تحت آپ کے سامنے اپنی گردن جھکائے ہوئے کھڑے تھے۔ مگر آپ نے ان ظالموں اور جنگی مجرموں کو کسی بھی قسم کی کوئی سزا نہ دی۔ حتی کہ ان سے ملامت کا کوئی کلمہ بھی نہیں۔ آپ نے سب کو بلا شرط یہ کہہ کر چھوڑ دیا کہ جاؤ تم سب کے سب آزاد ہو: اذْهَبُوا فَأَنْتُمُ الطُّلَقَاءُ ۔ (سیرت ابن ہشام، جلد 2، صفحہ 412) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر ان دشمنوں کے ساتھ اسی طرح بر سلوک کرتے جو انہوں نے آپ کے ساتھ کیا تھا تو وہ بدستور دشمن کے دشمن بنے رہتے۔ اگر آپ انہیں قتل کر دیتے تب بھی ان کی اولادوں میں انتقام کا جذبہ بھڑکتا۔ مکہ کی بستی کبھی بھی منفی جذبات اور تخریبی کارروائیوں سے خالی نہ ہو سکتی۔ مگر جب آپ نے ان سب کو کسی شرط یا کسی ملامت کے بغیر معاف کر دیا تو گویا آپ نے مکہ میں تاریخ کا نیا ورق کھول دیا۔ اہل مکہ کو اس طرح آزاد کر دینا کوئی معمولی واقعہ نہ تھا۔ یہ انہیں دوبارہ نئی زندگی دینے کے ہم معنی تھے۔ یہ ان کے ساتھ اتنا بڑا احسان تھا کہ اس کے بعد وہ سرکشی اور دشمنی کا تحمل نہیں کر سکتے تھے۔ اس کے بعد وہ خود اپنی اندرونی نفسییات کے تحت مجبور ہو گئے کہ آپ کے آگے اپنے آپ کو جھکا دیں۔ چنانچہ راوی کہتے ہیں کہ وہ وہاں سے اس طرح نکلے گویا کہ وہ قبروں سے نکلے ہوں، اور وہ اسلام میں داخل ہو گئے: فَخَرَجُوا كَأَنَّمَا نُشِرُوا مِنَ الْقُبُورِ فَدَخَلُوا فِي الْإِسْلَام ۔ (السنن الكبرى للبيهقي، حدیث نمبر 18275) برائی کے جواب میں برائی مسئلہ کو بڑھانے والی ہے۔ اس سے نفرت اور دشمنی میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page