Urdu book · راہِ عمل

راہِ عمل

Urdu book, p. 115

By Maulana Wahiduddin Khan

اضافہ ہوتا ہے۔ مگر برائی کے جواب میں بھلائی کی جائے تو اس سے نفرت اور دشمنی کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔ ایسی روش اپنے اندر بے پناہ تسخیری طاقت رکھتی ہے۔ اور پیغمبر اسلام نے اسی تسخیری طاقت سے اپنے دشمنوں کو فتح فرمایا۔ تعمیر و استحکام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی ’’سُپریم سکسیس‘‘ کا ایک اہم راز یہ تھا کہ آپ ’اقدام‘ سے زیادہ ’استحکام‘ کو اہمیت دیتے تھے۔ داخلی تعمیر اور اندرونی استحکام کی آپ کے نزدیک اتنی زیادہ اہمیت تھی کہ اس کے لیے آپ ہر دوسری چیز کو نظر انداز کر سکتے تھے۔ تعمیر و استحکام کے مقصد کو آپ ہر حال میں حاصل کرنا چاہتے تھے، خواہ اس کی جو بھی قیمت آپ کو دینی پڑے۔ اس کی ایک مثال بدر کے قیدیوں کا معاملہ ہے۔ قدیم عرب میں صرف مکہ ایک ایسا شہر تھا جہاں ایسے لوگ تھے جو پڑھنا لکھنا جانتے تھے۔ مدینہ اور دوسری بستیوں میں عام طور پر لوگ لکھنے پڑھنے سے نا واقف تھے۔ بدر کی جنگ کے بعد اہل مکہ کے ستر آدمی گرفتار ہو کر مدینہ آئے۔ ان میں اکثر لوگ ایسے تھے جو لکھنا پڑھنا جانتے تھے۔ عام رواج کے خلاف آپ نے ان کو قتل نہیں کیا۔ بلکہ ان کی رہائی کا یہ آسان فدیہ مقرر فرمایا کہ ان کا ایک شخص مدینہ کے مسلم نوجوانوں میں سے کم از کم دس آدمیوں کو لکھنا پڑھنا سکھادے: فَجَعَلَ رَسُوْلُ اللهِ صلى الله علیه وسلم فِدَاءَهُمْ أَنْ يُعَلِّمُوا أَوْلَادَ الْأَنْصَارِ الْكِتَابَةَ _ (مسند احمد، حدیث نمبر 2216) یہ اسلام کی تاریخ میں پہلا اسکول تھا جو مدینہ میں قائم کیا گیا ۔ اس اسکول کے تمام استاد مشرک بلکہ اسلام دشمن تھے۔ پیغمبر اسلام کی بلند نظری کی یہ کیسی عجیب مثال ہے۔ یہ تعلیم کی اہمیت کا ایک انتہائی انقلابی نمونہ ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی میں قائم فرمایا۔ اس نوعیت کی کوئی دوسری مثال غالباً پوری انسانی تاریخ میں موجود نہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page