تعمیر و استحکام
Urdu book, p. 116
By Maulana Wahiduddin Khan
تعلیمی انتظام کا یہ معاملہ کوئی سادہ معاملہ نہ تھا۔ اس میں بہت بڑا خطرہ (risk) شامل تھا۔ کیوں کہ یہ ’’اساتذہ‘‘ سب کے سب وہ لوگ تھے جن کی اسلام دشمنی مسلّم ہو چکی تھی۔ اس بات کا یقینی خطرہ تھا کہ یہ لوگ رہا ہونے کے بعد جنگی تیاری کریں گے ۔ اور دوبارہ مدینہ پر حملہ آور ہوں گے۔ چنانچہ عملاً بھی ایسا ہی ہوا۔ یہ لوگ مدینہ سے رہا ہو کر مکہ پہنچے تو انہوں نے اپنے بدر کے مقتولین کے نام پر جذباتی تقریریں کیں۔ انہوں نے اپنی قوم کے لوگوں کو بدلہ لینے پر ابھارا۔ اسی کا یہ نتیجہ تھا کہ بدر کی لڑائی کے صرف ایک سال بعد احد کی لڑائی پیش آئی۔ اس یقینی خطرے کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ کے قیدیوں کو مسلمان بچوں کی تعلیم کے لیے استعمال فرمایا۔ اس طرح آپ نے یہ مثال قائم فرمائی کہ علم کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ اس کو ہر حال میں حاصل کرنا چاہیے، خواہ اس کے حصول کے لیے کتنا ہی بڑا خطرہ مول لینا پڑے۔ علم وہ طاقت ہے جو بالآخر آدمی کو ہر چیز دے دیتا ہے، حتیٰ کہ وہ چیز بھی اس کو مزید اضافے کے ساتھ مل جاتی ہے جس کو ابتدا ء علم کو حاصل کرنے کی راہ میں اسے کھونا پڑا تھا۔ اس سلسلے کی دوسری مثال وہ ہے جو صلح حدیبیہ کی صورت میں پائی جاتی ہے ۔ اس کا مختصر قصہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے مکہ کے لیے عمرہ کے ارادہ سے روانہ ہوئے۔ مکہ کے قریب حدیبیہ کے مقام پر پہنچے تو قریش نے آپ کو روک دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم آپ کو اس کی اجازت نہیں دے سکتے کہ آپ عمرہ کے لیے مکہ میں داخل ہوں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مزید اصرار کے بغیر وہیں رک گئے۔ اس کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان معاہدے کی بات شروع ہوئی ۔ اس گفتگو میں اہل مکہ نے بے سرکشی دکھائی۔ انہوں نے معاہدے کے لیے ایسی شرطیں پیش کیں جو یک طرفہ طور پر ان کے حق میں تھیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی ان نازیبا شرطوں کو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader