تعمیر و استحکام
Urdu book, p. 117
By Maulana Wahiduddin Khan
مان لیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اہل مکہ کی یک طرفہ شرطوں کو مان لینے کے بعد آپ کو ایک وقفہ تعمیر حاصل ہورہا تھا۔ اہل مکہ معاہدہ کے تحت اس کے پابند ہو گئے تھے کہ وہ آئندہ دس سال تک مسلمانوں کے خلاف جنگ نہ چھیڑیں گے۔ اس طرح یہ معاہدہ آپ کو موقع دے رہا تھا کہ آپ جنگ اور ٹکراؤ کے مسائل سے فارغ ہو کر یکسوئی کے ساتھ داخلی استحکام کا کام کر سکیں۔ اس وقفہ امن سے فائدہ اٹھا کر آپ نے اپنی دعوتی سرگرمیاں بڑھادیں ۔ اسلام تیزی سے قبائل کے درمیان پھیلنے لگا۔ اسلام کی عددی طاقت میں نمایاں طور پر اضافہ ہو گیا۔ یہاں تک کہ یہ حال ہوا کہ حدیبیہ کے سفر میں آپ کے ساتھ صرف چودہ سو اصحاب شریک تھے۔ اس کے بعد دو سال کے اندر جب آپ نے دوبارہ مکہ کی طرف مارچ کیا تو آپ کے ساتھیوں کی تعداد دس ہزار ہو چکی تھی ۔ یہ تعداد اتنی زیادہ تھی کہ مکہ کے لوگ محض اس کی خبر سے دہشت زدہ ہو گئے اور کسی مقابلے کے بغیر مکہ کو آپ کے حوالے کر دیا جو اس وقت گویا عرب کی راجدھانی تھا۔ تعمیر و استحکام کے معاملے کو اتنی زیادہ اہمیت دینے کی حکمت یہ ہے کہ قوموں اور ملتوں کی زندگی میں یہی وہ چیز ہے جو سب سے زیادہ فیصلہ کن حیثیت رکھتی ہے۔ کسی فرد یا قوم کو خارجی مقام عین اسی تناسب کے بقدر ملتا ہے جو اس نے داخلی تعمیر کے اعتبار سے اپنے لیے بنایا ہے، نہ اس سے کم اور نہ اس سے زیادہ۔ اس دنیا میں کسی قوم کو جو مقام ملتا ہے وہ اس اعتبار سے ملتا ہے کہ وہ داخلی تعمیر اور اندرونی استحکام کے اعتبار سے کس درجہ پر ہے، نہ یہ کہ لفظی ہنگامہ آرائیوں کے اعتبار سے اس نے کتنا طوفان برپا کیا ہے۔ تعمیر و استحکام کے حصول کا معیار قرآن میں یہ بتایا گیا ہے کہ وہ اتنا زیادہ ہو کہ استعمال کے بغیر صرف اس کی موجودگی فریق ثانی کو مرعوب اور خوفزدہ کر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader