راہِ عمل
Urdu book, p. 118
By Maulana Wahiduddin Khan
دینے کے لیے کافی ہوجائے: تُرْهِبُونَ بِهِ عَدُوَّ اللَّهِ وَعَدُوَّكُمْ۔ (8:60) حدیث میں بھی یہ بات مختلف لفظوں میں آئی ہے۔ مثلاً ایک روایت کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ایک مہینہ کی مسافت تک پہنچنے والے رعب کے ذریعہ میری مدد کی گئی ہے: نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِیرَةَ شَهْرٍ ۔ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 427) ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مجھ کو ایسی تدبیر کار کی تعلیم دی گئی ہے کہ جب میں اس کے مطابق اپنے آپ کو تیار کروں تو میری ہیبت دور دور کے مقام تک پہنچ جائے۔ خلاصہ کلام اللہ تعالیٰ نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو صراط مستقیم دکھائی۔ آپ اس معیار کمال کی حد تک قائم تھے۔ آپ ایمان باللہ کے اعلیٰ ترین مرتبہ پر تھے اور اپنے اصحاب کے اندر بھی آپ نے ایمان کی حرارت پوری طرح بھر دی تھی۔ آپ ہمیشہ فطرت کے نقشے پر عمل کرتے تھے۔ اور فطرت کی مساعدت سے ہمیشہ کامیابی کی منزل پر پہنچے۔ آپ نے زندگی کو اس نظر سے دیکھا کہ اس کے عُسْر کو یُسْر میں تبدیل کریں اور اپنے اصحاب میں بھی آپ نے یہی نظر پیدا فرمائی۔ آپ نے انسانوں کے ساتھ اس برتر اخلاق کا ثبوت دیا جو ان کی فطرت ربانی کو جگائے، حتیٰ کہ دشمن بھی آپ کے دوست بن جائیں۔ آپ نے ہمیشہ برائی کے جواب میں بھلائی کا سلوک کیا، نفرت کرنے والوں کے ساتھ خیر خواہی کا معاملہ فرمایا۔ آپ نے دوسروں کی تخریب سے زیادہ اس پر توجہ دی کہ اپنے آپ کو مستحکم کریں اور اس طرح اپنے آپ کو دوسروں کے لیے ناقابل تسخیر بنا دیں۔ یہ صفتیں وہ ہیں جو تمام فوجوں سے زیادہ طاقتور ہیں۔ وہ فتح و کامیابی کو آخری حد تک یقینی بنا دینے والی ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader