دعوت کے بجائے تحفظ
Urdu book, p. 12
By Maulana Wahiduddin Khan
1947ء سے پہلے ہندوستان کے مسلمانوں کے سامنے یہ مسئلہ تھا کہ وہ ملک کے اکثریتی فرقے کی طرف سے خطرہ محسوس کر رہے تھے۔ مثال کے طور پر ان کو یہ اندیشہ تھا کہ آزادی کے بعد مشترک ہندوستان میں اردو کا مستقبل غیر محفوظ ہو جائے گا۔ ”ہند و حکومت“ اور ”ہندی پر چاری سبھا“ اردو کو کھا جائیں گے۔ اس لیے انھوں نے پر زور مطالبہ کیا کہ ہم کو ایک الگ ہوم لینڈ دیا جائے۔ تاکہ ہم وہاں اردو زبان کی حفاظت کر سکیں ۔ اس عنوان پر مسلم عوام کی تائید حاصل کرنے کے لیے دھواں دھار تحریک چلائی گئی۔ مسلمانوں کے ذہن میں یہ بات بٹھائی گئی کہ اردو ہے تو اسلام ہے۔ اردو نہیں تو اسلام بھی نہیں۔ تحریک کامیاب ہوئی۔ اردو قوم کو ایک ہوم لینڈ مل گیا۔ مگر اس کے بعد 1971ء میں بنگلہ دیش میں اور 1987ء میں سندھ میں اردو دانوں اور غیر اردو دانوں کے درمیان جو خونریز فسادات ہوئے وہ بتاتے ہیں کہ مسلمانوں کی یہ سوچ سراسر غلط تھی۔ جو لوگ ”ہند و ظلم“ کی شکایت کرتے تھے کیا وجہ ہے کہ وہ لوگ خود اپنے بھائیوں کے خلاف شدید تر ظلم کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ ان کا باہمی اختلاف یہاں تک پہنچا ہے کہ پاکستان کے ایک کروڑ اردو بولنے والے ”مہاجر قومیت“ کے نام سے دوبارہ اپنی علیحدہ قومیت کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے لیڈروں نے ان کے ذہن میں یہ بات بھری تھی کہ اردو اور اسلام دونوں ایک ہیں۔ اردو کا تحفظ اسلام کا تحفظ ہے۔ اس ذہن کو لے کر جب وہ پاکستان گئے تو انھوں نے عین اپنے مزاج کے تحت اردو کے تحفظ کو اپنا اہم ترین مسئلہ قرار دیا۔ غیر منقسم ہندوستان میں اردو کا تحفظ ہندوؤں کے مقابلے میں مسلمانوں کے تحفظ کے ہم معنی تھا۔ مگر پاکستان میں وہ خود مسلمان کے مقابلے میں مسلمان کے تحفظ کے ہم معنی بن گیا۔ کیوں کہ وہاں کے لوگوں کی مادری زبانیں بنگالی اور پنجابی اور سندھی، وغیرہ تھیں، نہ کہ اردو۔ غیر منقسم ہندوستان میں جو نعرہ بظاہر تحفظ اسلام نظر آ رہا تھا وہ پاکستان پہنچ کر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader